30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکھا اب جانشین موصوف کو بوجہ تجدید مذکور یہ خیال ہے کہ احمد میرا مرید ہے اوراحمد اپنے ذہن میں اپنی بیعت اولٰی پر ہے۔ اس صورت میں امرحق کیاہے۔احمد چاہتاہے کہ اگر میرے خیال کی غلطی ثابت ہو تومیں تائب ہوکر از سر نو دست مولٰنا پر بیعت مستقلہ بجالاؤں اور اگر اسی کا خیال صحیح ہے تو شرع مطہر سے اس پر کیا دلیل ہے کہ باوصف یکہ احمد نے دوبارہ بیعت دست مولٰنا پر کی،مولٰنا کا مرید متصور نہ ہو۔بینو اتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں احمد کا خیال ہے صحیح ہے وہ اپنی بیعت اولٰی پر ہے بوجہ تجدید مذکور جانشین موصوف کا مرید قرار نہ پائے گا۔
|
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی [1]۔ |
سوائے اس کے نہیں کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور سوا اس کے نہیں کہ ہر آدمی کے لئے وہ ہے جو اس نے نیت کی۔(ت) |
شرع مطہر سے اس پر دلیل واضح حضرت سیدنا طلحہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا فعل اور حضرت امیر المومنین امام العارفین مولی المسلمین علی مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کا قول ہے:
|
وناھیك بہما قدوۃ فی الدین۔ |
تیرے لئے ان دونوں حضرات کا دین میں پیشوا ہونا کافی ہے۔(ت) |
جب حضرت طلحہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنی خطائے اجتہادی سے رجوع فرماکر دست حق پر ست حضرت امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ پر تجدید بیعت چاہی ظالم کے ہاتھ سے زخمی ہوچکے تھے امیر المومنین علی تك وصول کی طاقت نہ تھی امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ کے لشکر کا ایك سپاہی گزرا اسے بلاکر حضرت طلحہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس کے ہاتھ پر تجدید بیعت فرمائی اور روح اقدس جوار اقدس رحمت الٰہی میں پہنچی، امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ نے یہ حال سن کر فرمایا:
|
ابی اﷲ ان یدخل طلحۃ الجنۃ الا و بیعتی فی عنقہ۔ |
اﷲ عزوجل نے طلحہ کاجنت میں جانا نہ مانا جب تك میری بیعت ان کی گردن میں نہ ہو۔(ت) |
[1] صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲،صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۴۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع