30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کتنے صحابہ ہیں جن کی احادیث ائمہ حدیث قدیم وحدیث نے اپنے صحاح ومسانید وسنن معاجیم میں تخریج فرمائیں نہ ان کے پاس نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا کوئی فرمان تھا کہ فلاں ہمارے حضور بارگاہ علام پناہ سے شرف یاب ہوا نہ ان سے اس پر کوئی شہادت لی گئی نہ اور صحابہ کا محضر طلب ہوا ان ثقات کا خود ہی کہاکہ:
|
سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شہدت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا ہے میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا ہے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔(ت) |
مسموع ومقبول ہوا۔
|
کماافادہ الامام ابو عمربن عبدالبر فی الاستیعااب و اقرہ علیہ حافظ الشان۔ |
جیساکہ افادہ فرمایا ہے امام ابوعمر بن عبدالبر نے استیعاب میں اور ثابت رکھا ہے اس پر حافظ الشان ابن حجر نے(ت) |
شہرت وہ چیزہے جس سے رشتہ خلافت درکنار رشتہ نسب کہ صدہا احکام حلال وحرام وحقوق و ذمام کا مدار ہے شرعاوعقلا اجماعا عرفا ہر طرح ثابت ہوجاتاہے ہم شہادت دیتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ حضرت ابوقحافہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پسر اطہر اور امام زین العابدین حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے خلف مطہر میں سوا شہرت کے ہمارے پاس اس پر اور کیا دلیل ہے۔فتاوٰی خلاصہ میں ہے:
|
اما النسب فصورتہ اذا سمع من انسان ان فلانا ابن فلان الفلانی،ومعہ ان یشھد بذٰلك وان لم یعاین الولادۃ علی فراشہ الا یری انا نشھد ان ابابکر الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ ابن ابی قحافۃ وما رأینا ابا قحافہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ [1]۔ |
لیکن نسب تو صورت اس کی یہ ہے کہ سنا کسی انسان سے تحقیق فلاں بیٹا فلاں کا فلان ہے تو اس کو گنجائش ہے اس بات کی شہادت دے اس کی اگر چہ اس کے فرش پر اس کی ولادت کا اس نے معائنہ نہ کیا ہو،کیا نہیں دیکھتا کہ ہم گواہی دیتے ہیں اس بات کی کہ تحقیق ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ ابوقحافہ کے بیٹے ہیں حالانکہ ہم نے ابوقحافہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو دیکھا نہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع