30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاان تکون ہناك دلالۃ بینۃ ان الراوی لم یلق من روی عنہ اھ [1]ملخصا۔ |
جگہ دلالت ظاہر کہ روای نے جس سے روایت کی ہے اس سے ملاقات نہیں کی اھ ملخصا۔(ت) |
شرح امام نووی میں ہے:
|
ھذا الذی صار الیہ مسلم قد انکرہ المحققون وقالو اھذا ضعیف والذی ردہ ھوالمختار الصحیح الذی علیہ ائمۃ الفن علی بن المدینی والبخاری وغیرھما [2]۔ |
یہ وہ ہے جس کی طرف مائل ہوئے ہیں امام مسلم،حال یہ ہے کہ محققوں نے اس کا نکار کیا ہے اور انھوں نے کہا ہے یہ ضعیف ہے اور جس کو اس نے رد کیا ہے وہی مختار صحیح ہے جس پر ائمہ فن علی بن المدینی اور امام بخاری وغیرہما جمع ہوئے ہیں۔(ت) |
فتح القدیر میں ہے:
|
مانقل عن البخاری من انہ اعلم بقولہ لایعرف سماع بعض ھؤلاء من بعض فبناء علی اشتراطہ العلم باللقی والصحیح الاکتفاء بامکان اللقی [3]۔ |
جو نقل کیا گیا ہے امام بخاری سے کہ انھوں نے ضعیف قرار دیا ہے ساتھ اپنے قول کہ نہیں پہچانا جاتا سننا بعض ان حضرات کا بعض سے،تویہ اس پر مبنی ہے کہ ان کے نزدیك ملاقت کا علم ہونا شرط ہے اور صحیح یہ ہے کہ ملاقات کا امکان ہی کافی ہے۔ (ت) |
نیز کتاب الزکوٰۃ فصل فی البقر میں فرمایا:
|
قول الجمہور الاکتفاء بالمعاصرۃ مالم یعلم عدم اللقاء و شرط البخاری ابن المدینی العلم باجتما عہما ولو مرۃ |
جمہور کا قول کفایت کرتاہے ہم عصر ہونے کے ساتھ جبکہ ملاقات کے نہ ہونے کا علم نہ ہو اور شرط قرار دیا ہے امام بخاری اور ابن المدینی نے ان کے اجتماع کو اگرچہ ایك ہی مرتبہ ہوا ہو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع