30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من التصانیف المشہورۃ للمجتہدین لانہ بمنزلۃ الخبر المتواتر المشہور ھکذا ذکر الرازی [1]۔ |
ان کی مثل مجتہدین کی مشہور تصانیف اس لئے کہ وہ بمنزلہ خبر متواتر مشہور کے ہے،رازی نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔(ت) |
جب بتصریح ائمہ کرام دین خدا واحکام شرع ومسائل حلال وحرام وفتوٰی وقضا متعلق بدماء ومحارم میں انھیں دو طریقہ سند و شہرت سے صرف ایك کا وجود کافی جس کی بناء پر اجرائے حدود وقصاص تك کیاجائے گا امر سجادہ نشینی میں دونوں کا اجتماع بھی کافی نہ جاننا سراسر بعید از انصاف ہے سند کی تویہ حالت ہے کہ زید مسموع القول جب کوئی حدیث یا مسئلہ فقہیہ اپنے شیخ سے روایت کرے اور اس میں تصریح سماع بھی نہ ہو،تاہم امام بخاری وغیرہ بعض ائمہ کے نزدیك شیخ وتلمیذ کی صرف کبھی ملاقات ہونا تسلیم کے لئے بس ہے اور امام مسلم وغیرہ جمہور اکابر کے نزدیك اس کی ضرورت نہیں محض معاصرت یعنی دونوں کا ایك زمانہ میں ہونا اور امکان لقاہی کافی ہے۔ہمارے علماء کے نزدیك یہی مذہب صحیح ہے نہ کہ جب وہ کہے کہ میں نے سنا یا مجھے خبر دی یا مجھ سے حدیث بیان کی کہ اب تو بالاجماع بے شرط مذکور قبول اور صاحب سند سے دعوی سماع پر گواہ مانگنا ضروری جاننا باجماع ائمہ باطل ومخذول امام مسلم اپنے مقدمہ صحیح میں فرماتے ہیں:
|
زعم القائل الذی افتتحنا الکلام علی الحکایۃ عن قولہ ان کل اسناد فیہ فلان عن فلانہ وقد احاط العلم بانہما کانا فی عصر واحد وجائز ان یکون سمعہ منہ غیر انہ لم تجد فی الروایات انھما التقیا لم یکن حجۃ وھذا القول مخترع مستحدث والمتفق علیہ بین اھل العلم قدیما وحدیثا ان الروایۃ ثابتۃ و الحجۃ بہا لازمۃ |
گمان کیا ہے اس قائل نے کہ شرو کیا ہم نے کلام کو اس کے قول کی حکایت پر تحقیق ہر استاد کہ اس میں فلان عن فلاں ہو،اور حال یہ کہ علم نے اس کا احاطہ کیاہو کہ وہ دونوں ایك ہی زمانہ میں ہوں او رجائز ہے کہ اس نے اس سے سنا ہو سوا ا س کے کہ ہم روایات میں نہ پائیں ان کی باہم ملاقات کو کہ وہ حجت نہ ہو اور یہ قول نیا گھڑا ہوا ہے اور پرانے اورنئے اہل علم میں یہ اتفاقی بات ہے کہ روایت ثابت ہے اور حجت اس کے ساتھ لازم ہے مگریہ کہ اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع