30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یقول انی لاعلم انہ یعنی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ افضل منی واحق بالامر ولکن الستم تعلمون ان عثمان قتل مظلوما وانا ابن عمہ وولیہ اطلب بدمہ، رواہ یحیٰی بن سلیمٰن الجعفی شیخ البخاری فی کتاب الصفین [1] بسند جید عن ابی مسلم الخولانی واما بعد تفویض الامام المجتبٰی ایاہ فلا شك انہ امام حق وامیر صدق کما بینہ العلامۃ ابن حجر فی الصواعق [2] ایں نوع رامشائخ منظور ندا شتہ اند۔ واحیانا آں شیخ او را در باطن امر فرماید روا بود کہ نزد صوفیہ حکم ارواح جائز ست۔
اقول:وح یرجع الی الاویسیۃکما ان سید اباالحسن الخرقانی خلیفۃ سیدی ابی یزید البسطامی قدس اﷲ تعالٰی اسرارھما ولکن لایسلم ھذا لکل مدع مالم نعلم ثقتہ وعدالتہ اویشھد لہ اھل الباطن)الی اٰخر ماافادہ واجاد قدس اﷲ تعالٰی |
تحقیق یہ صحیح ہے کہ امیر معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دعوٰی خلافت کا انکارفرماتے تھے اور فرماتے بیشك میں جانتاہوں کہ علی کرم اﷲ وجہہ مجھ سے افضل ہیں اورخلافت کے زیادہ حقدار ہیں لیکن کیا تم جانتے ہو کہ تحقیق عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ ظلمًا قتل کئے گئے ہیں اور میں ان کے چچا کا بیٹا ان کا بھائی اور ان کا ولی ہوں میں ان کے خون کا بدلہ طلب کرتاہوں، اس کو یحیٰی بن سلیمان الجعفی شیخ البخاری نے کتاب الصفین میں سندجید کے ساتھ ابومسلم الخولانی سے روایت کیا۔ لیکن امام مجتبٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جب امر خلافت ان کو تفویض یعنی سپرد کردیا تو بیشك وہ امام حق اور امیر صادق تھے جیسا کہ اس کو علامہ ابن حجر مکی نے صواعق میں بیان فرمایا ہے۔ اس قسم کو مشائخ نے منظور نہیں رکھا ۔ اوراحیانًا کسی وقت وہ شیخ اس کو باطن میں حکم فرمائیں تو جائز ہے اس لئے کہ صوفیہ کے نزدیك ارواح کاحکم جائز ہے۔ اقول:(میں کہتاہوں)اس وقت حضرات اویسیہ کی طرف رجوع کیا جائے گا جیسا کہ حضرت سیدی ابوالحسن الخرقانی حضرت سیدی ابویزید البسطامی قدس سرہما کے خلیفہ تھے لیکن یہ امر ہر مدعی سے تسلیم نہیں کیا جائیگا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع