30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رجوع اور وصی پیشین کو معزول کیاہے تو بیشك متاخر متقدم کا نا سخ ہوجائے گا۔
|
وھذا کما فی ردالمحتار عن ادب الاوصیاء عن التتارخانیۃ اوصی الی رجل ومکث زمانا فاوصی الی اٰخر فہما وصیان فی کل وصایاہ سواء تذکر ایصاہ الی الاول او نسی لان الوصی عندنا لاینعزل مالم یعزل الموصی حتی لو کان بین وصیتہ مدۃ سنۃ اواکثر لاینعزل الاول عن الوصایہ [1]۔ |
اور یہ جیساکہ ردالمحتار میں ادب الاوصیاء سے وہ تاتارخانیہ سے کسی نے کسی مردکو اپنا وصی(نائب)بنایا اور کچھ زمانہ ٹھہرا تو دوسرے مرد کو وصی(نائب)بنادیا تو وہ دونوں اس کے تمام وصایا میں نائب ہوں گے، برابرہے کہ پہلے شخص کو نائب بنانا ایسے یا دہو یا بھول گیا ہو کیونکہ وصی(نائب) ہمارے مذہب میں جب تك وصیت کرنے والا معزول نہ کرے معزول نہیں ہوتا حتی کہ دونوں وصیتوں کے درمیان مدت ایك برس یازیادہ ہو پھر بھی پہلا وصی(نائب)ہونے سے معزول نہ ہوگا۔(ت) |
اوراگر اس کا نص نہیں تو اس درگاہ وخانقاہ میں جو دستور قدیم سے چلا آیا ہے اس پر کاربندی ہوگی یا اہل حل وعقدجس پراتفاق کریں مگر ان دونوں صورتوں میں یہ ضرور ہے کہ شخص مذکور اس مرشد مربی سے خلافت عامہ بطور مقبول رکھتا ہو ورنہ بسبب تعامل یا ہمارے بلادمیں بوجہ عدم قضاۃ اتفاق ناس سے تولیت اوقاف اگر چہ صحیح ہوجائے مگر سجادہ نشینی ہر گز درست نہ ہوگی کہ وہ خلافت خاصہ ہے اور کوئی خاص بے عام کے متحقق نہیں ہوسکتا اورخلافت عامہ بے اجازت صحیحہ زنہار حاصل نہیں ہوتی،حضرت اسدالعارفین سیدنا ومولانا حضرت سید شاہ حمزہ علی مارہری قد س اﷲ تعالٰی سرہ الزکی اپنی بیاض شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:
|
معلوم بادکہ خلافت مشائخ کہ دریں ولایت مروج ست بر ہفت نوع ست، بعضے ازاں مقبول بعضے ازاں مجہول، اول اصالۃ دوم اجازۃً، سوم اجماعًا، چہارم وراثۃً، پنجم حکمًا، ششم تکلیفًا، ہفتم اویسیًا، اما اصالۃً آنکہ بزرگے بامر الٰہی شخصے راخلیفہ |
معلوم ہو کہ مشائخ کی خلافت کہ اس ولایت ہندو پاك میں مروج ہے سات قسموں پر ہے۔ بعض مقبول ہیں اور بعض مجہول، پہلی قسم اصالۃً ہے۔ اور دوسری اجازۃً، تیسری اجماعًا، چوتھی وراثۃً، پانچویں حکمًا، چھٹی تکلیفًا، ساتویں اویسیًا، اصالۃً یہ کوئی بزرگ اﷲ تعالٰی کے حکم سے کسی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع