30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی خلافۃ سیدنا الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ رضیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لدیننا افلا نرضاہ لدنیانا [1]۔ |
حضرت سیدنا صدیق اکبر(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)کی خلافت کے بارے میں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے آپ کو ہمارے دین کے لئے پسند فرمایا تو بس ہم اس کو اپنی دنیا کے لئے کیوں پسند نہ کریں۔(ت) |
یہ خلافت خلافت وامامت کبرٰی سے بہت مشابہ ولہذا حیات مستخلف سے مجتمع نہیں ہوتی اسی کو سجادہ نشینی کہتے ہیں یہاں مرجع اول مستخلف ہے کہ جس شخص کو وہ ولیعہد کرے یا اس کے لئے قریب وصال وصیت کر جائے بشرطیکہ وہ وصیت شرعا معتبرا ور وصی مذکور اہل ولائق اور متعلق درگارہ کچھ اوقاف ہوں تو ان کی تولیت کی بھی صلاحت رکھتاہو وہی سجادہ نشین قر ارپائے گا اور باوجود اس کے نص مقبول ومعتبر شرعی کے کام کو ناتمام جان کر بحث ارباب شورٰی واہل حل وعقد کے سامنے پیش نہ کریں گے کما فی الامامۃ الکبرٰی والخلافۃ العظمٰی(جیسا کہ امامت کبرٰی اوربڑی خلافت ہے)اور مجرد تقریر وعدم انکا ر نص صریح کے مقابل خصوصا جبکہ نص متاخر ہو ہر گز رنگ قبول نہیں پاسکتی مثلا اگر کوئی شخص اس مرشد مربی کے حضور کہے کہ بعد حضور زید سجادہ نشین ہے یا کسی شخص کی تحریر، اس مضمون پر مشتمل اس مرشد مربی کے سامنے پڑھی جائے اور وہ اس قول یا تحریر کو سن کر سکوت فرمائے بعدہ وصیت سجادہ نشینی بنام عمرو یا باشتراك زید وعمرو کرے تویہ وصیت ہی معتبر ہوگی اور وہ سکوت پایہ اعتبا سے ساقط رہا۔
|
والدلیل علی ذٰلك قاعدتان من الفقۃ الاولٰی لا ینسب الی ساکت قول [2] والاخری ان الصریح یفوق الدلائل [3]۔ |
اور دلیل اس پر دو قانون فقہ کے ہیں پہلا خاموش کی طرف کوئی قول منسوب نہیں ہوتا، دوسرا تحقیق صریح دلالت پر راجح ہوتا ہے۔(ت) |
اوراگر نص صریح دو پائے جائیں ایك میں تصریح وصیت زید کے لئے ہو اور دوسرے میں عمرو خواہ دونوں کے لئے، اور ان میں ایك کی تاریخ دوسرے سے متاخر ہو، تاہم دنوں نص معمول بہ(عمل کیا جائے گا)رہیں گے اور زید وعمرو دونوں وصی قرار پائیں گے، ہاں اگر نص متاخرمیں نص اول سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع