30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الدخیل فیہم بالدعاوی والاوہام وربما کان من لقبوہ بالقطبیۃ لا یصلح ان یکون مریدا لقطب[1]الخ۔ |
کوئی نہیں پہچان سکتا نہ کہ وہ لوگ جو صرف اپنے دعاوی او ر اوہام کے ساتھ ان میں داخل ہوتے ہیں اور بسا اوقات جن کو انھوں نے قطب ہونے کا لقب دیا ہے وہ اس لائق نہیں ہے کہ کسی حقیقی قطب کا مریدہو۔(ت) |
یہ اس لئے جو اس راہ کا چلنا چاہے اور ہمت پست کوتاہ دست لوگ اگر سلوك نہ بھی چاہیں تو انھیں توسل کے لئے شیخ کی حاجت ہے یوں اﷲ عزوجل اپنے بندوں کو بس تھا۔ قال اﷲ تعالٰی(اﷲ تعالٰی نے فرمایا):
|
"اَلَیۡسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ؕ"[2] |
کیاخدا اپنے بندوں کو کافی نہیں ۔ |
مگر قرآن عظیم نے حکم فرمایا:
|
" وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ "[3] |
اﷲ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ |
اﷲ کی طرف وسیلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف وسیلہ مشائخ کرام، سلسلہ بہ سلسلہ جس طرح اﷲ عزوجل تك بے وسیلہ رسائی محال قطعی ہے یونہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تك رسائی بے وسیلہ دشوار عادی ہے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صاحب شفاعت ہیں اﷲ عزوجل کے حضور وہ شفیع ہونگے اور ان کے حضور علماء واولیاء اپنے متوسلوں کی شفاعت کریں گے، مشائخ کرام دنیا ودین و نزع وقبر و حشر سب حالتوں میں اپنے مریدین کی امداد فرماتے ہیں، میزان الشریعہ میں ارشاد فرمایا:
|
قد ذکرنا فی کتاب الاجوبۃ عن ائمۃ الفقہاء و الصوفیۃ ان ائمۃ الفقہاء والصوفیۃ کلہم یشفعون فی مقلدیہم و یلاحظون احدھم عندطلوع روحہ و عند سوال منکر ونکیر لہ وعند |
تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے کتاب الاجوبہ عن ائمۃ الفقہاء و الصوفیہ میں کہ فقہاء اور صوفیہ سب کے سب اپنے متبعین کی شفاعت کریں گے او ر وہ اپنے متبعین اور مریدین کے نزع کی حالت میں روح کے نکلنے اور منکر نکیر کے سوالات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع