30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لکن المعتبر نسخۃ ابی عبداﷲ محمد السہیلی کان المؤلف صححہا قبل وفاتہ بثمان سنین سادس ربیع الاول ۸۶۲ھ [1] ملخصا۔ |
معتبر ابو عبداﷲ محمد سہیلی کانسخہ ہے کہ مؤلف قدس سرہ نے وصال شریف سے آٹھ برس پہلے ششم ربیع الاول ۸۶۲ھ کو اس کی تصحیح فرمائی تھی۔ |
(۱۳)علامہ محمد بن احمد بن علی فاسی قصری مطالع میں فرماتے ہیں:
|
اعقب المؤلف رحمہ اﷲ تعالٰی ورضی عنہ، ترجمۃ الاسماء بترجمۃ صفۃ الروضۃ المبارکۃ موافقا وتابعا للشیخ تاج الدین الفاکہانی فانہ عقد فی کتاب الفجر المنیر بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ ومن فوائد ذٰلك ان یزور المثال من لم یتمکن من زیارۃ الروضۃ ویشاہدہ مشتاق ویلثمہ ویزداد فیہ حباو شوقا [2]۔ |
مؤلف رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فصل اسماء طیبہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد صفت روضہ مبارکہ کی فصل بہ تبعیت وموافقت امام تاج الدین فاکہانی ذکر فرمائی کہ انھوں نے بھی اپنی کتاب فجر منیر میں خاص ایك باب ذکر کیا اور اس میں بہت فائدے ہیں از انجملہ یہ کہ جسے روضہ مبارکہ کی زیارت میسرنہ ہوئی وہ اس نقشہ پاك کی زیارت کرے مشتاق اسے دیکھے اور بوسہ دے اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت اور حضور کا شوق اس کے دل میں بڑھے۔ |
اللھم ارزقنا اٰمین(اے اللہ! ہمیں بھی یہ نصیب فرما اور ہماری یہ درخواست قبول فرما۔ ت)
(۱۴)اسی میں ہے:
|
قد کنت رأیت تالیفا لبعض المشارقۃ یقول فیما انہ ینبغی لذاکر(اسم)الجلالۃ من المریدین ان یکتبہ بالذھب فی ورقۃ ویجعلہ نصب عینیہ فاذا صور قاری ہذا الکتاب الروضۃ صورۃ حسنۃ بالوان حسنۃ و خصوصا بالذھب فہو من معنی ذٰلك [3]۔ |
میں نے بعض علماء مشرق کی تالیف میں دیکھا کہ جو مرید اسم پاك اﷲ کا ذکر کرے اسے چاہئے کہ نام پاك اﷲ ایك ورق میں سونے سے لکھ کر اپنے پیش نظر رکھے تو جب اس کتاب کو پڑھنے والا روضہ مقدسہ کی خوبصورت تصویر خوشنما رنگوں سے رنگین خصوصا آب زر سے بنائے تو وہ اسی قبیل سے ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع