30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

|
وصدر ابوالفتح ابن الجوزی بوضعہا ھکذا ونسب ابن حجر ھذہ الصفۃ الی الاکثر [1]اھ مختصرا، قلت و وقع ھہنا فی الکتاب تخلیط واضطراب نبھت علیہ علی ھامشہ وزادہ سید المرتضی فی النقل عنہ فی شرح الاحیاء لم اجدہ فی نسختی شرح الدلائل ولا ہو صحیح فی نفسہ وذٰلك انہ لم یذکر فی المطالع عن ابن الجوزی صورۃ جدیدۃ فکان قولہ ہکذا اشارۃ الی مامر و ہو الذی نسبہ ابن حجر الی الجمہور والاکثر کما ستمسع فیما یذکر اما المرتضی فنقل تصویرہ عن المطالع عن ابن الجوزی بعد قولہ |
حافظ ابوالفرج بن جوزی نے ان کی وضع(یعنی قبور مقدسہ کی ساخت)کچھ اس طرح بیان فرمائی اور علامہ ابن حجر نے اس صورت وضع کو اکثر اہل علم سے منسوب کیا ہے(مختصر عبارت مکمل ہوئی)میں کہتاہوں کہ اس کے باوجود یہاں کتاب میں کچھ خلط ملط اور اشتباہ پایا جاتاہے میں نے اس پر اس کے حاشیہ میں تنبیہ کی ہے سید مرتضی نے شرح احیاء العلوم میں اپنے حاشیہ میں تنبیہ فرماتے ہوئے ان سے نقل کرنے میں کچھ اضافہ فرمایا لیکن میں نے اسے شرح دلائل الخیرات کے اپنے نسخہ میں نہیں پایا اور فی ذاتہٖ وہ صحیح بھی نہیں اس لئے کہ مطالع المسرات میں ابن جوزی کے حوالے سے کوئی نئی صورت نہیں ذکر کی گئی لہذا ابن جوزی کا قول ہکذا اسی گزشتہ قول کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ وہی ہے جس کو علامہ ابن حجر نے جمہور اور اکثر کی طرف سے منسو ب کیا ہے جیسا کہ آئندہ ذکر کیا جاتاہے آپ سنیں گے لیکن سید مرتضی نے اس کی تصویر مطالع المسرات سے ابن جوزی کے قول ہکذا کہنے کے بعد کچھ اس طرح نقل فرمائی ہے جو نقشہ ذیل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع