30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
(وقد اختلف اہل السیر وغیرہم فی صفۃ القبور المقدسۃ علی سبع روایات اوردھا)ابوالیمن(ابن عساکر فی)کتابہ(تحفۃ الزائر)والصحیح منھا روایتان احدہما ماتقدم عن القاسم والاخری وبہا جزم رزین وغیرہ وعلیہا الاکثر کما قال المصنف فی الفصل الثانی و قال النووی انھا المشہورۃ والمسمہودی انہا اشہر الروایات ان قبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی القبلۃ مقدما بجدارہا ثم قبر ابی بکر حذاء منکبی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقبر عمر حذامنکبی ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہما وہذا صفتہا: |
سیرت نگاروں نے قبور مقدسہ کی وضع یا ساخت میں جو اختلاف کیا ہے اس سلسلے میں سات روایات پائی جاتی ہیں، ابوالیمن ابن عساکر نے وہ روایات اپنی کتاب ''تحفہ الزائر'' میں بیان کی ہیں ان میں سے صرف دوروایات صحیح ہیں ایك ان میں سے وہ ہے جو ابوالقاسم کے حوالے سے بیان ہوچکی ہے۔ اور دوسری روایت وہ جس پر محدث رزین وغیرہ نے اعتماد کیا ہے اور اسی پر اکثر اہل علم قائم ہیں جیسا کہ مصنف نے دوسری فصل میں فرمایا امام نووی کہتے ہیں کہ یہی مشہور ہے اور علامہ سمہودی نے فرمایا:زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی قبر اطہر دیوار قبلہ سے متصل سب سے آگے ہے اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے شانوں کے بالمقابل حضرت ابوبکر صدیق ضی اﷲ تعالٰی عنہ کی قبر ہے پھر صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے شانوں(کندھوں)کے بالمقابل حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی قبر ہے۔ یہ ان قبور کی صورت ساخت ہے:(ت) |

کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع