30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مستحب ومطلوب ہے۔علامہ تاج فاکہانی فجر منیر میں فرماتے ہیں:
|
من فوائد ذلك ان من لم یمکنہ زیارۃ الروضۃ فلیبرز مثالہا ولیلثمہ مشتاقا لانہ ناب مناب الاصل کما قد بان مثال نعلہ الشریفۃ مناب عینھا فی المنافع و الخواص بشہادۃ التجربۃ الصحیحۃ ولذا جعلوالہ من الاکرام والاحترام مایجعلون للمنوب عنہ [1]۔ |
یعنی روضہ مبارك سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نقل میں ایك فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ اقدس کی زیارت نہ ملے وہ اس کی زیارت کرے اور شوق دل کے ساتھ اسے بوسہ دے کہ یہ نقل اسی اصل کے قائم مقام ہے جیسے نعل مبارك کا نقشہ منافع وخواص میں یقینا خود اس کا قائم مقام ہے جس پر صحیح تجربہ گواہ ہے ولہذا علمائے دین نے اس کی نقل کا اعزاز واکرام وہی رکھا جو اصل کا رکھتے ہیں۔ |
اسی طرح دلائل الخیرات ومطالع المسرات وغیرہما معتبرات میں ہے اس بحث کی تفصیل جمیل فقیر کے رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ ۱۳۱۵ھ میں ہے یہاں لفظ زیارت کی ممانعت محض جہالت ہے اور معاذاﷲ درود شریف کی ممانعت اور سخت حماقت اور صراحۃشریعت مطہرہ پر افتراء ہے۔
علامہ طاہر فتنی مجمع البحار میں اپنے استاد امام ابن حجر مکی رحمہ اﷲ تعالٰی سے نقل فرماتے ہیں:
|
من استقیظ عنداٰخذ الطیب وشمہ الی ماکان علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من محبتہ للطیب فصلی علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لما وقر فی قلبہ من جلالتہ واستحقاقہ علی کل امۃ ان یلحظوا بعین نہایۃ الاجلال عند رؤیۃ شیئ من اٰثارہ او مایدل علیہا فہو اٰت بمالہ فیہ اکمل الثواب الجزیل وقد استحبہ العلماء لمن رأی |
خوشبو والے کے پاس خوشبو دیکھ کر متوجہ ہوا اور اسے سونگھا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام خوشبو کو پسند فرماتے تھے تو اس وقت درود شریف پڑھا اس لئے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی جلالت شان کا دل میں وقار پایا اور تمام امت پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ استحقاق جانتے ہوئے کہ آپ کے آثار مبارکہ کو دیکھتے ہوئے ان کی تعظیم واہتمام کو ملحوظ رکھیں تو خوشبو سونگھنے پر درود شریف پڑھنے والے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع