30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس کی صحت نیت پر دلیل یہ ہوگی کہ کم پر ناراض نہ ہو بلکہ اگر جلسے گزرجائیں لوگ فو ج فوج زیارتیں کرکے یوں ہی چلے جائیں اور کوئی پیسہ نہ دے جب بھی اصلا دل تنگ نہ ہو اور اسی خوشی وشادمانی کے ساتھ مسلمانوں کو زیارت کرایا کرے،اس صورت میں یہ لینا دینا دونوں جائز وحلال ہوں گے اور زائرین و مزور دونوں اعانت مسلمین کا ثواب پائیں گے اس نے سعادت وبرکت دے کر ان کی مدد کی انھوں نے دنیا کی متاع قلیل سے فائدہ پہنچایا،اوررسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ رواہ مسلم[1] فی صحیحہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچائے،پہنچائے(اسے مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت) |
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
اﷲ فی عون العبد مادام العبد فی عون اخیہ۔رواہ الشیخان [2]۔ |
اﷲ اپنے بندہ کی مدد میں ہے جب تك بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہے(اسے امام بخاری ومسلم نے روایت کیا۔ت) |
علی الخصوص جب یہ تبرکات والے حضرات سادات کرام ہوں تو اب کی خدمت اعلٰی درجہ کی برکت وسعادت ہے۔
حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں"جو شخص اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوك کرے اور اس کا صلہ دنیا میں نہ پائے میں بہ نفس نفیس رو ز قیامت اس کا صلہ عطا فرماؤں گا"اوراگر زیارت کرانے والے کو اس کی توفیق نہ ہو تو زیارت کرنے والے کو چاہئے خود ان سے صاف صراحۃ کہہ دے کہ نذر کچھ نہیں دی جائے گی خالصا لوجہ اﷲ اگر آپ زیارت کراتے ہیں کرائے اس پر اگر وہ صاحب نہ مانیں ہر گز زیارت نہ کرے کہ زیارت ایك مستحب ہے اوریہ لین دین حرام،کسی مستحب شے کے حاصل کرنے کے واسطے حرام کو اختیار نہیں کرسکتے،الاشباہ والنظائر وغیرہا میں ہے:
|
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ [3]۔ |
جس چیز کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع