30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کماتاہے اور " وَیَشْتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًاۙ"[1](میری آیات کے ذریعہ قلیل رقم حاصل کرتے ہیں۔ت)کے قبیل میں داخل ہوتاہے۔
تبرکات شریفہ بھی اﷲ عزوجل کی نشانیوں سے عمدہ نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ سے دنیا کی ذلیل قلیل پونجی حاصل کرنے والاد نیا کے بدلے دین بیچنے والا ہے شناعت سخت تر یہ ہے کہ اپنے اس مقصد فاسد کے لئے تبرکات شریفہ کو شہر بشہر دربدر لئے پھرتے ہیں اور کس و نا کس کے پاس لے جاتے ہیں یہ آثار شریفہ کی سخت توہین ہے۔خلیفہ ہارون رشید رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ نے عالم دار الہجرۃ سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے درخواست کی تھی کہ ان کے یہاں جاکر خلیفہ زادوں کو پڑھا دیا کریں،فرمایا:میں علم کو ذلیل نہ کروں گا انھیں پڑھنا ہے تو خود حاضر ہوا کریں،عرض کی:وہی حاضر ہونگے مگر اور طلباء پر ان کو تقدیم دی جائے، فرمایا:یہ بھی نہ ہوگا سب یکساں رکھے جائیں گے آخر خلیفہ کو یہی منظور کرناپڑا____ یونہی امام شریك نخعی سے خلیفہ وقت نے چاہا تھا کہ ان کے گھر جاکر شہزادوں کو پڑھا دیا کریں،انکار کیا۔کہا:آپ امیر المومنین کا حکم ماننا نہیں چاہتے۔فرمایا:یہ نہیں بلکہ علم کو ذلیل نہیں کرنا چاہتا۔
رہا یہ کہ بے اس کے مانگے زائرین کچھ اسے دیں اوریہ لے۔اس میں تفصیل ہے شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ المعہود عرفا کالمشروط لفظا(عرفا مقررہ چیز لفظا مشروط کی طرح ہے۔ت)یہ لوگ تبرکات شریفہ شہر بشہر لئے پھرتے ہیں ان کی نیت وعادت قطعا معلوم کہ اس کے عوض تحصیل زر وجمع مال چاہتےہیں یہ قصدنہ ہوتو کیوں دور دراز سفر کی مشقت اٹھائیں، ریلوں کے کرائے دیں،اگر کوئی ان میں زبانی کہے بھی کہ ہماری نیت فقط مسلمانوں کو زیارت سے بہرہ مند کرنا ہے تو ان کا حال ان کے قال کی صریح تکذیب کررہاہے ان میں علی العموم وہ لوگ ہیں جو ضروری ضروری طہارت وصلوٰۃ سے بھی آگاہ نہیں اس فرض قطعی کے حال کرنے کو کبھی دس پانچ کو س یا شہرہی کے کسی عالم کے پاس گھر سے آدھ میل جانا پسند نہ کیا مسلمانوں کو زیارت کرانے کے لئے ہزاروں کوس سفر کرتے ہیں پھر جہاں زیارتیں ہوں اور لوگ کچھ نہ دیں وہاں ان صاحبوں کے غصے دیکھئے پہلا حکم یہ لگایا جاتاہے کہ تم لوگوں کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ محبت نہیں گویا ان کے نزدیك محبت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ا ور ایمان اسی میں منحصر ہے کہ حرام طور پر کچھ ان کی نذر کردیا جائے،پھرجہاں کہیں سے ملے بھی مگر ان کے خیال سے تھوڑا ہو ان کی سخت شکایتیں اور مذمتیں ان سے سن لیجئے اگر چہ وہ دینے والے صلحاء وعلماء ہوں اور مال حلال سے دیا ہو اور جہاں پیٹ بھر کے مل گیا وہاں کی لمبی چوڑی تعریفیں لے لیجئے اگر چہ وہ دینے والے فساق فجار بلکہ بد مذہب ہوں اور مال حرام سے دیا ہو قطعا معلوم ہے کہ وہ زیارت نہیں کراتے بلکہ لینے کے لئے اور زیارت کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ ضرو رکچھ دینا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع