30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منافق۔والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
اور یہ کہنا کہ آج کل اکثر لوگ مصنوعی تبرکات لئے پھرتےہیں مگر یوہیں مجمل بلاتعین شخص ہو یعنی کسی شخص معین پر اس کی وجہ سے الزام یا بدگمانی مقصود نہ ہو تو اس میں کچھ گناہ نہیں،اور بلا ثبوت شرعی کسی خاص شخص کی نسبت حکم لگادینا کہ یہ انھیں میں سے ہے جو مصنوعی تبرکا ت لئے پھرتے ہیں ضرورتًا ناجائز وگناہ وحرام ہے کہ اس کا منشا صرف بدگمانی ہے اور بدگمانی سے بڑھ کر کوئی جھوٹی بات نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث [1]۔ |
بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔ |
ائمہ دین فرماتے ہیں:
|
انما ینشوء الظن الخبیث من القلب الخبیث [2]۔ |
خبیث گمان خبیث ہی دل سے پیدا ہوتاہے۔ |
تبرکات شریفہ جس کے پاس ہوں ان کی زیارت کرنے پر لوگوں سے اس کا کچھ مانگنا سخت شنیع ہے۔جو تندرست ہو اعضاء صحیح رکھتا ہو نوکری خواہ مزدوری اگر چہ ڈلیا ڈھونے کے ذریعہ سے روٹی کما سکتاہوا سے سوال کرناحرام ہے۔رسول اﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لاتحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی [3]۔ |
غنی یا سکت والے تندرست کے لئے صدقہ حلال نہیں۔ |
علماء فرماتے ہیں:
|
ماجمع السائل بالتکدی فہو الخبیث [4]۔ |
سائل جو کچھ مانگ کر جمع کرتاہے وہ خبیث ہے۔ |
اس پر ایك تو شناعت یہ ہوئی،دوسری شناعت سخت تویہ ہے کہ دین کے نام سے دنیا
[1] صحیح البخاری کتاب الوصایا ۱/ ۳۸۴ وکتاب الفرائض ۲/ ۹۹۵ صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ ۲/ ۳۱۶،جامع الترمذی ابواب البر ۲/ ۲۰ مؤطا امام مالک باب ماجاء فی المہاجرۃ ص۷۰۲
[2] فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۹۰۱ ایاکم والظن الخ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲
[3] مسند امام احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۹۲
[4] ردالمحتار کتاب الکراہیۃ ۵/ ۲۴۷ وفتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراہیۃ ۵/ ۳۴۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع