30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدا لمرسلین محمد واٰلہ وصحبہ واولیائہ وعلمائہ وامتہ وحزبہ اجمعین اٰمین۔واﷲ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹: غرہ ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تبرك آثار شریفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کیسا اور اس کے لئے ثبوت یقینی درکارہے۔یا صرف شہرت کافی ہے اور نعلین شریفین کی تمثال کو بوسہ دینا کیسا ہے اور اس سے توسل جائز ہے یانہیں؟ اور بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ تمثال نعل شریف کے اوپربعد بسم اﷲ کے لکھتے ہیں:
|
اللھم ارنی برکۃ صاحب ھذین النعلین الشریفین۔ |
یا اللہ! مجھے ان نعلین پاك کی برکت سے نواز۔(ت) |
اور اس کے نیچے دعائے حاجت لکھتے ہیں۔یہ کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
فی الواقع آثار شریفہ حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تبرك سلفا وخلفا زمانہ اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے آج تك بلا نکیر رائج ومعمول اور باجماع مسلمین مندوب ومحبوب بکثر ت احادیث صحیحہ بخاری ومسلم وغیرہما صحاح و سنن وکتب حدیث اس پر ناطق جن میں بعض کی تفصیل فقیر نے کتاب البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ الشارقۃ میں ذکر کی۔اور ایسی جگہ ثبوت یقینی یاسند محدثانہ کی اصلا حاجت نہیں اس کی تحقیق وتنقیح کے پیچھے پڑنا اوربغیر اس کے تعظیم وتبرك سے بازرہنا سخت محرومی کم نصیبی ہے ائمہ دین نے صرف حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نام سے اس شے کا معروف ہونا کافی سمجھا ہے۔ امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
|
من اعظامہ واکبارہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعظام جمیع اسبابہ و اکرام مشاھدہ وامکنتہ من مکۃ و المدینۃ ومعاھدہ ومالمسہ علیہ الصلوٰۃ والسلام او اعرف بہ [1]۔ |
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام متعلقات کی تعظیم اور آپ کے نشانات اور مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کے مقامات اور آپ کے محسوسات اور آپ کی طرف منسوب ہونے کی شہرت والی اشیاء کا احترام یہ سب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم وتکریم ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع