30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یبعث للمطاہر فیوتی بالماء فیشربہ یرجوبہ برکۃ ایدی المسلمین [1]۔ |
مسلمانوں کی طہارت گاہوں مثل حوض وغیرہ سے جہاں اہل اسلام وضو کیا کرتے پانی منگا کر نوش فرماتے اور اس سے مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت لینا چاہتے،صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وبارك وکرم۔ |
علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیرج ۲ ص ۲۶۹، پھر علامہ علی بن احمد عزیزی سراج المنیر ج ۳ ص ۱۴۷ شروح جامع صغیر میں اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں:باسناد صحیح [2](صحیح اسناد کے ساتھ ہے۔ت)علامہ محمد حفنی اپنی تعلیقات علی الجامع میں فرماتے ہیں:
|
یرجو بہ برکۃ الخ لانہم محبوبون ﷲ تعالٰی بدلیل ان اﷲ یحب التوابین ویحب المتطہرین [3]۔ |
یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقیہ آب وضو ئے مسلمین میں اس وجہ سے امید برکت رکھتے کہ وہ محبوبان خدا ہیں۔قرآن عظیم میں فرمایا بیشك اﷲ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتاہے طہارت والوں کو۔ |
اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اعلی واجل واکبر،یہ حضور پر نور سید المبارکین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں جن کی خاك نعلین پاك تمام جہانوں کے لئے تبرك دل وجان وسرمہ چشم دین وایمان ہے وہ اس پانی کو جس میں مسلمانوں کے ہاتھ دھلے تبرك ٹھہرائیں اور اسے منگا کر بغرض حصول برکت نوش فرمائیں حالانکہ واﷲ مسلمانوں کے دست وزبان ودل وجان میں جو برکتیں ہیں سب انھیں نے عطا فرمائیں،انھیں کی نعلین پاك کے صدقے میں ہاتھ آئیں،یہ سب تعلیم امت وتنبیہ مشغولان خواب غفلت کے لئے تھا کہ یوں نہ سمجھیں تو اپنے مولٰی وآقا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا فعل سن کر بیدار اور برکت آثار اولیاء وعلماء کے طلبگار ہوں،پھر کیسا جاہل ومحروم ونافہم ملوم کہ محبوبان خدا کے آثار کو تبرك نہ جانے اوراس سے حصول برکت نہ مانے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع