30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دعوت کنید فرمودند کہ وقت صبح بیائید مردمان بسیار بوقت صبح آمد ند طعامہائے خوب خوردند وفاتحہ خواند ند بعد آں پرسید ند کہ شمار مرد فقیر ہستید ایں قدر طعام از کجا آمد فرمود کہ جبہ رافروختم وتبرك را نگاہدا شتم ہمہ گفتند کہ ﷲ الحمد کہ تبرك بمستحق رسید [1]۔ |
یہ فرمان سن کر اس شخص کے دل میں آیا کہ اس بزرگ کی تخصیص لازما کوئی سبب رکھتی ہے،چنانچہ امتحان کی نیت سے کلاہ مبارك کے ساتھ ایك قیمتی جبہ بھی شامل کرلیا اور پوچھ گچھ کرتے حضرت خلیفہ کی خدمت میں جاپہنچا اور ان سے کہا کہ یہ دونوں تبرك حضرت غوث اعظم کے ہیں اور انھوں نے مجھے خواب میں حکم دیا ہے کہ یہ تبرکات ابوالقاسم اکبر آبادی کو دے دو،یہ کہہ کر تبرکات ان کے سامنے رکھ دئے،خلیفہ ابوالقاسم نے تبرکات قبول فرماکر انتہائی مسرت کا اظہار کیا،اس شخص نے کہا یہ تبرك ایك بہت بڑے بزرگ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں لہذا اس شکریے میں ایك بڑی دعوت کا انتظام کرکے رؤسائے شہر کو مدعو کیجئے،حضرت خلیفہ نے فرمایا کل تشریف لانا ہم کافی سارا طعام تیار کرائیں گے آپ جس جس کو چاہیں بلالیجئے،دوسرے روز علی الصباح وہ درویش روسائے شہر کے ساتھ آیا دعوت تناول کی اور فاتحہ پڑھی فراغت کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ آپ تو متوکل ہیں ظاہری سامان کچھ بھی نہیں رکھتے،اس قدر طعام کہاں سے مہیا فرمایا؟ فرمایا کہ اس قیمتی جبے کو بیچ کر ضروری اشیاء خریدی ہیں،یہ سن کر وہ شخص چیخ اٹھا کہ میں نے اس فقیر کو اہل اﷲ سمجھا تھا مگر یہ تو مکار ثابت ہوا،ایسے تبرکات کی قدر اس نے نہ پہچانی،آپ نے فرمایا چپ رہو جو چیز تبرك تھی وہ میں نے محفوظ کرلی ہے اور جو سامان امتحان تھا ہم نے اسے بیچ کر دعوت شکرانہ کاانتظام کر ڈالا،یہ سن کر وہ شخص متنبہ ہوگیا اور اس نے تمام اہل مجلس پر ساری حقیقت حال کھول دی جس پر سب نے کہا کہ الحمدﷲ تبرك اپنے مستحق تك پہنچ گیا۔(ت) |
اسی طرح صدہا عبارات ہیں جس کے حصر واستقصاء میں محل طمع نہیں،یہ سب ایك طرف فقیر غفراﷲ تعالی لہ حدیث صحیح سے ثابت کرے کہ خود حضور پر نور سید یوم النشور افضل صلوات اﷲ تعالٰی واجل تسلیمات علیہ وعلی آلہ وذریاتہ آثار مسلمین سے تبرك فرماتے۔وﷲ الحجۃ البالغۃ۔طبرانی معجم اوسط اور ابونعیم حلیہ میں حضرت سیدنا عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
|
قال کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
یعنی حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع