30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۴)اسی میں ہے ص ۵۷:
|
ان تام المعرفۃ لروحہ تحدیق و غایۃ بکل شیئ من طریقتہ ومذھبہ وسلسلتہ ونسبہ وقرابتہ وکل ما یلیہ وینسب الیہ وعنایتہ ھذہ یختلف بہا عنایۃ الحق [1]۔ |
بیشك تمام معرفت والے کی روح کو اپنے متعلق ہر چیز طریقہ، مذہب،سلسلہ،نسب وقرابت بلکہ اس کی طرف ہر منسوب پر نظر واہتمام ہوتاہے جس کی وجہ سے حق تعالٰی کی عنایت اس کو شامل ہوجاتی ہے۔(ت) |
(۱۵)یہی شاہ صاحب ہمعات میں لکھتے ہیں:
|
از ینجاست حفظ اعراس مشایخ ومواظبت زیارت قبور ایشاں والتزام فاتحہ خواندن وصدقہ دادن برائے ایشاں واعتنائے تمام کردن بہ تعظیم آثار واولاد ومنتبان ایشاں [2]۔ |
اسی وجہ سے مشایخ کے عرس ان کے قبروں کی زیارت،ان کے لئے فاتحہ خوانی اور صدقات کا اہتمام والتزام ضروری ہوجاتاہے اور ان کے آثار واولاد اور جو چیز ان کی طرف منسوب ہو ان کی تعظیم کا مکمل اہتمام لازم قرار پاتاہے۔(ت) |
(۱۶)انھیں شاہ صاحب کی انفاس العارفین میں ہے:
|
درحرمین شخصے از بزرگان خود کلاہ حضرت غوث الثقلین تبرك یافتہ بود شبے در واقعہ حضرت غوث الاعظم رادید کہ می فرمایند ایں کلاہ بہ ابوالقاسم اکبر آبادی برساں آں شخص برائے امتحان یك جبہ قیمتی ہمراہ آں کلاہ کردہ گرفت کہ ایں ہر دو تبرك حضرت غوث الاعظم ہستند حکم شد کہ بشمار سانم حضرت شاں بسیار خوش شد گرفتند آن شخص گفت کہ برائے شکر حصول ایں تبرك اہل شہر را |
حرمین شریفین میں ایك ایسا شخص مقیم تھا جسے حضرت غو ث الاعظم کی کلاہ مبارك تبرکا سلسلہ وار اپنے آباء واجداد سے ملی ہوئی تھی جس کی برکت سے وہ شخص حرمین شریفین کے نواح میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور شہرت کی بلندیوں پر فائز تھا ایك رات حضرت غوث الاعظم کو(کشف میں)اپنے سامنے موجود پایا جو فرمارہے تھے کہ یہ کلاہ ابو القاسم اکبرآبادی تك پہنچادو،حضرت غوث اعظم کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع