30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الجمیع بہ [1]۔ |
شرف پایا۔(ت) |
(۱۲)شاہ ولی اﷲ دہلی متوفی ۱۱۷۴ھ فیوض الحرمین صفحہ ۲۰میں لکھتے ہیں:
|
من اراد ان یحصل لہ ماللملاء السافل من الملئکۃ فلا سبیل الی ذٰلك الا الاعتصام بالطہارۃ و الحلول بالمساجد القدیمۃ التی صلی فیہا جماعات من الاولیاء [2]الخ۔ |
جو شخص ملاء سافل کے فرشتوں کا مقام چاہتاہے اس کی صرف یہی صورت ہے کہ وہ طہارت اور قدیم مساجد جہاں اولیائے کرام نے نماز پڑھی ہو،میں داخل ہونے کا التزام کرے الخ۔ (ت) |
(۱۳)اسی میں ہے ص۴۹:
|
ان الانسان اذا صار محبوبا فکان منظورا للحق و للملاء الا علی عروساجمیلا فکل مکان حل فیہ انعقدت و تعلقت بہ ہمم الملاء الا علی وان ساق الیہ افواج الملئکۃ وامواج النور لاسیما اذا کانت ہمتہ تعلقت بہذا المکان والعارف الکامل معرفۃ وحالا لہ ھمۃ یحل فیھا نظر الحق یتعلق باھلہ ومالہ وبیتہ و نسلہ ونسبہ وقرابتہ واصحابہ یشمل المال والجاہ وغیرہا ویصلحہا فمن ذٰلك تمیزت ماٰثر الکمل من ماثر الکمل من ماثر غیرھم[3]۔ |
تحقیق جب انسان محبوب بن جاتا ہے تو وہ حق تعالٰی کا منظور اور ملاء اعلٰی کا خوب صورت دولھا بن جاتاہے تو وہ جس مکان میں ہوتا ہے وہاں ملاء اعلی،کی ہمتیں مرکوز ہوجاتی ہیں اور فرشتوں کی فوج اور نور کی امواج اس جگہ واردہوتی ہیں خصوصا وہ مکان جہاں اس کی ہمت مرکوز ہوتی ہے اور معروف میں کامل عارف کی ہمت میں حق تعالٰی کی نظر رحمت مرکوز ہوتی ہے جس کا عارف کے اہل مال،گھر،نسل ونسب،قرابت اور اس کے اصحاب سے یوں تعلق ہوتاہے کہ اس سے متعلق ہر چیز کو وہ تعلق شامل ہوجاتاہے اسی بناء پر لوگوں کے آثار کامل اور غیر کامل حضرات کے آثار سے ممتاز ہوتے ہیں(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع