30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مواضع بعیدہ مانندآب زمزم وآنحضرت چوں در مدینہ مے بودآب زمزم رااز حاکم مکہ مے طلبید وتبرك مے ساخت وفضلہ وارثان او کہ علماء وصلحاء اند وتبرك بآثار وانوار ایشاں ہم بریں قیاس ست [1]۔ |
اور ان کو دوسرے بعید شہروں میں منتقل کرنے کی نظیر آب زمزم شریف ہے۔جب آپ مدینہ منورہ میں تھے تو آپ حاکم مکہ سے اب زمزم طلب فرماتے اور متبرك بناتے اور آپ کے وارث علماء وصلحاء کی بچی ہوئی چیز اور ان کے آثار وانوار کا اسی پر قیاس ہے۔(ت) |
(۱۱)امام علامہ احمد بن محمد مصری مالکی معاصر شیخ محقق دہلوی نے کتاب مستطاب فتح المتعال فی مدح خیر النعال میں ا مام اجل خاتمۃ المجتہدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی شافعی متوفی ۷۵۶ء کا ایك کلام نفیس تبرك بہ آثارامام شیخ الاسلام ابو زکریا نووی قدست اسرار ہم میں نقل فرمایا:
|
وھذا لفظ حکی جماعۃ من الشافعیۃ ان الشیخ العلامۃ تقی الدین ابا الحسن علیا السبکی الشافعی لما تولی تدریس دارالحدیث بالاشرافیۃ بالشام بعد وفاۃ الامام النووی احد من یفتخر بہ المسلمون خصوصا الشافعیۃ انشد لنفسہ۔ وفی دارالحدیث لطیف معنی الی بسط لہا اصبو و اٰوی لعلی ان امس بحر وجھی مکانامسہ قدم النواوی واذ ا کان ہذا فی اٰثار من ذکر فما بالك باٰثار من شرف |
اس بات کو شوافع کی ایك جماعت نے حکایت کیا ہے کہ علامہ شیخ تقی الدین ابوالحسن علی سبکی شافعی جب شام میں امام نووی کی وفات کے بعد مدرسہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث کے منصب پرت فائز ہوئے تو انھوں نے اپنے متعلق یہ پڑھا: دارالحدیث میں ایك لطیف معنی سے بسط کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف میں مائل اور راجع ہوں یہ کہ ہوسکتاہے کہ محبت کی شدت میں اس جگہ کو اپنے چہرے سے مس کروں جس کو امام نووی کے قدموں نے مس کیا ہے جب یہ مذکور حضرات کے آثار کا معاملہ ہے تو اس ذات کے آثار کے متعلق تیرا حال کیا ہوگا جس ذات سے سب نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع