30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۷)امام احمد بن محمد قسطلانی متوفی ۹۲۳ھ ارشادالساری شرح صحیح البخاری میں زیر حدیث ابوجحیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فجعل الناس یتمسحون بوضوئہ فرماتے ہیں:
|
استنبط منہ التبرك بما یلامس اجساد الصالحین [1]۔ |
اس میں صالحین کے اجسام سے مس کرنیوالی چیز سے تبرك کا ثبوت ہے۔(ت) |
(۸)اسی میں زیر حدیث انی واﷲ ماسألتہ لالبسہا انما سألتہ لتکون کفنی فرمایا:
|
فیہ التبرك باٰثارالصالحین قال اصحابنا لایندب ان یعد نفسہ کفنا الا ان یکون من اثرذی صلاح فحسن اعمادہ کما ھنا [2]انتھی ملخصا۔ |
اس میں آثار صالحین سے تبرك کا ثبوت ہے۔ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ کسی صالح کے اثر والا کفن اپنے لئے تیار کرنا بہترین کفن جیسے یہاں حدیث میں ہے انتہی ملخصا۔(ت) |
(۹)مولنا علی قاری مکی متوفی ۱۰۱۴ھ نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث سنن نسائی کے نیچے کہ طلق بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ بقیہ آب وضو ئے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم حضور سے مانگ کر اپنے ملك کو لے گئے یہ فائدہ لکھ کر کہ:
|
فیہ التبرك بفضلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ونقلہ الی البلاد نظیرہ ماء زمزم۔ |
اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے استعمال سے بچی ہوئی چیز سے تبرك حاصل کرنا اور اسے دوسرے شہروں میں لے جانا آب زمزم کی نظیر ہے۔(ت) |
فرمایا:
|
ویوخذ من ذٰلك ان فضلۃ وارثیہ من العلماء و الصلحاء کذٰلک[3]۔ |
اور اس سے اخذ ہوتاہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ ولسلام کے وارثوں علماء وصلحاء کا بچا ہوا بھی اسی طرح متبرك ہے۔(ت) |
(۱۰)مولٰنا شیخ محقق عبالحق محدث دہلوی متوفی ۱۰۲۵ھ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا:
|
دریں حدیث استحباب است بہ بقیہ آب وضو ے وپس ماندہ آنحضرت ونقل آں بلاد و |
اس حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وضو سے بچا ہوا پانی اور دیگر پسماندہ اشیاء کا متبرك ہونا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع