30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وغیرہما سے کوئی برکت حاصل نہیں ہوتی،چونکہ وہ پڑھے لکھے ہیں یہ امر قرار پایا ہے کہ اگر سو برس سے قبل کے کسی عالم نے اپنی کتاب میں اس برکت کو تحریر کیا ہو تو میں مان لوں گا،آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے جبہ وغیرہ میں گفتگو نہیں ہے۔والسلام۔
الجواب:
برکت آثار بزرگان سے انکار آفتاب روشن کا انکار ہے معہذا جب برکت آثار شریفہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور پر ظاہر کہ اولیاء وعلماء حضور کے ورثاء ہیں تو ان کے آثار میں برکت کیوں نہ ہوگی کہ آخر وارث برکات ووارث ایراث برکات ہیں،فقیر غفراﷲ تعالٰی کہ اتمام حجت کے لئے چند عبارات ائمہ وعلماء کہ وہ سب آج سے سوبرس پہلے اور بعض پانسو چھ سو برس پہلے کے تھے حاضر کرتا ہے۔کتب مطبوعہ کا نشان جلد وصفحہ بھی ظاہر کردیا جائے گا،کہ مراجعت میں آسانی ہو،
(۱)امام اجل زکریا نووی جن کی ولادت باسعادت ۶۳۱ھ اور وفات شریف ۶۷۷ھ میں ہوئی شرح صحیح مسلم شریف میں زیر حدیث عتبان بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ:انی احب ان تاتینی وتصلی فی منزلہ فاتخذہ المصلی(میری تمنا ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لاکر کسی جگہ نماز پڑھ لیں تاکہ میں اس جگہ کو نماز پڑھنے کے لئے متعین کرلوں۔ت)فرماتے ہیں:
|
فی ہذا الحدیث انواع من العلم وفیہ التبرك باٰثار الصالحین وفیہ زیارۃ العلماء والصلحاء، والکبار و اتباعہم وتبریکھم ایاھم [1]۔ |
اس حدیث میں کئی قسم کے علوم ومعارف ہیں اور اس میں بزرگان دین کے آثار سے تبرك اور علماء صلحاء،اوربزرگوں اور ان کے متبعین کی زیارت اور ان سے برکات کا حصول ثابت ہے۔(ت) |
(۲)نیز اسی حدیث کے نیچے لکھتے ہیں:
|
فی حدیث عتبان فی ہذا فوائدکثیرۃ منہا التبرك بالصالحین واٰثارھم والصلوٰۃ فی المواضع التی صلوا بہا وطلب التبریك منھم [2]۔ |
حضرت عتبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی اس حدیث میں بہت فوائد ہیں ان میں سے صالحین اور ان کے آثار سے تبرك اور ان کی جائے نماز پر نماز اور ان سے تبرکات حاصل کرنا ثابت ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع