30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرقاۃ میں ہے:
|
الملك الحقیقی لیس الا ھو وملکیۃ غیرہٖ مستعارۃ فمن سمی بہذا الاسم نازع اﷲ بردائہ وکبریائہ و لما استنکف ان یکون عبداﷲ جعل لہ الخزی علی رؤس الاشہاد [1]۔ |
مالك حقیقی تو ہی ذات ہے اور دوسروں کی ملکیت عارضی لہذا جس نے اس نام"ملك الملوک"سے اپنا نام رکھا،اس نے ردائے الٰہی اور اس کی کبرایائی سے منازعت کی،اور جب اس نے بندہ خدا ہونے سے تکبر کیا تو علی الاعلان ذلت ورسوائی اس کے لئے مقرر کردی گئی۔۱۲م |
تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے:
|
لامالك لجمیع الخلائق الا اﷲ ومالکیۃ الغیر مستردۃ الی ملك الملوك فمن تسمی بذٰلك نازع اﷲ فی رداء کبریائہ واستنکف ان یکون عبداﷲ [2]۔ |
مخلوقات کا مالك تو صرف اﷲ ہے۔اور غیر کا مالك ہونا اسی شہنشاہ کا صدقہ ہے تو جس نے یہ(ملك الملوک)نام رکھا تو اس نے اﷲ عزوجل سے اس کی کبریائی کی چادر مول لی اور بندہ الٰہی ہونے سے تکبر کیا۔۱۲م |
بعینہٖ یونہی سراج المنیر میں ہے: من قولہ فمن تسمٰی بذٰلك [3]الخ۔ ارشاد الساری میں ہے:
|
المالك الحقیقی لیس الاھو مثل مامر عن الطیبی الی قولہ استنکف ان یکون عبد اﷲ و زاد فیکون لہ الخزی والنکال [4]۔ |
مالك حقیقی تو صرف وہی ذات ہے استنکف ان یکون عبد اﷲ(اﷲ کا بندہ ہونے سے تکبر کیا)تك من وعن طیبی کے قول کی طرح،البتہ اس میں یکون لہ الخ کا لفظ زائد ہے یعنی اس کے لئے ذلت ورسوائی ۱۲م |
[1] مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی تحت حدیث ۴۷۵۵ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۵
[2] التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۳۰۳ اخنع الاسماء عنداﷲ مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۵۱۔۵۲
[3] السراج المنیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۳۰۳ اخنع الاسماء عنداﷲ المطبعۃ الازہریہ المصریۃ مصر ۱ /۶۸
[4] ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب الادب باب البغض الاسماء الخ دارالکتاب العربی بیروت ۹ /۱۸۔۱۱۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع