30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالجملہ حدیث حکم فرمارہی ہے کہ اس نام والا روز قیامت تمام جہان سے زیادہ خدا تعالٰی کے غضب وعذاب میں ہے۔امام قاضی عیاض نے فرمایا:ای اکبر من یغضب علیہ [1]یعنی سب سے بڑھ کر جس پرغضب الہی ہوگا۔ علامہ طیبی نے کہا:یعذبہ اشد العذاب اﷲ تعالٰی اسے سخت تر عذاب فرمائے گا۔نقلہما فی المرقاۃ [2](انھیں مرقاۃ میں نقل کیا گیا ہے۔ت) اور شك نہیں کہ سب سے سخت تر عذاب وغضب نہ ہوگا مگرکافرپر اور"ملك الاملاک"نام رکھنا بالاجماع کفر نہیں ہوسکتا،جب تك استغراق حقیقی مراد نہ لے،تو حاصل حدیث یہ نکلا کہ جس شخص نے بد عوٰی الوہیت و خدائی اپنا نام ملك الاملاك رکھا اس پرسب سے زیادہ سخت عذاب وغضب رب الارباب ہے،اور یہ قطعا حق ہے اور اسے مانحن فیہ سے علاقہ نہیں،کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
خامسًا: اس معنی حق حقیقت سے جس میں وہ نام رکھنے والا ضرور صفت خاص رب العزت بلکہ الوہیت سے بھی بڑھ کر منزلت کا مدعی قطعا مستحق اشد العذاب الابدی ہے تنزل لیجئے تو علماء نے سبب نہی یہ بتایا ہے کہ اس نام سے ا س کا متکبر ہونا پیدا ہے۔ شرح مشکوٰۃ علامہ طیبی میں ہے:
|
المالك الحقیقی لیس الاھو ومالکیۃالغیر مستردۃ الی مالك الملوك فمن تسمی بہذا الاسم نازع اﷲ سبحٰنہ فی رداء کبریائہ واستنکف ان یکون عبداﷲ لان وصف المالکیۃ مختص باﷲ تعالٰی لا یتجاوزہ و الملوکیۃ بالعبد لایتجاوزہ فمن تعدی طورہ،فلہ،فی الدنیا الخزی والعاروفی الاخرۃ والالقاء فی النار [3]۔ |
مالك حقیقی تو صرف وہی ذات ہے اوردوسروں کی بادشاہت وملکیت اسی شہنشاہ کی رہینِ منَّت تو جس نے "ملك الملوک"اپنا نام رکھا تو اس نے کبریائی کی چادرمیں اﷲ سے منازعت مول لی اوراپنے کو بندہ خدا ہونے سے تکبر کیا کیونکہ مالك ہونا ایك ایسا وصف ہے جو ذات باری کے ساتھ خاص ہے۔دوسروں میں یہ پایانہیں جاسکتا،یونہی مملوك ہونا یہ بندوں کے ساتھ خاص ہے ان سے متجاوز نہیں ہوسکتا،تو جو اس دارہ کار سے آگے بڑھ گیا وہ دنیا میں رسو ا اور ذلیل اور آخرت میں عذاب نار کا سزاوار ہے۔۱۲م۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع