30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رجل کان یسمٰی مَلِك الاَمْلاك لاَ مَلِك الا اﷲ [1]۔ |
خدا کا مبغوض وہ شخص ہے جس کا نام ملك الاملاك کہا جاتاہے بادشاہ کوئی نہیں خدا تعالٰی کے سوا۔ |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) من البعد الشدید وبالجملۃ رجع الکلام علی تاویلہم الی ان اشد الناس مغضوبیۃ بناءً علی حکم اﷲ تعالٰی وانا اقول: وباﷲ التوفیق ان جعلنا الغیظ وھو غضب العاجز صادرا عن الرجل وعلی صلۃ لہ تخلصنا عن ذٰلك کلہ ولا نسلم اباء المعنی فان المجرم المعذب الکافر بعظمۃ الملك ونعمتہ لابدلہ من التغیظ علی الملك عند حلول نقمتہ بہ وکلما کان اشد عذابا کان اشد تغیظا والتہابا فکان کنایۃ عن انہ اشد الناس عذابا وناسب ذکرہ بہذا الوجہ اشارۃ الی کونہ متکبرا علی ربہ منازعالہ فی کبریائہ متکبرا علی ربہ منازعا لہ فی کبریائہ فاذا احس مس العذاب جعل یتغیظ علی من لایقدر علیہ ولایستطیع الفرار منہ وقد کان یزعم مساواۃ فی العظمۃ والاقتدار فمن یقدر تغیظہ الاالواحد القہار والعیا ذ باﷲ العزیز الغفار۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔۱۲ منہ عفی عنہ۔ |
میں ہے لیکن اس کے باوجود کہ"علی"کی وضاحت نہ ہوسکی اس لئے ملا علی قاری"لفظ اللہ"سے قبل مضاف مقد رماننے پر مجبور ہوئے یعنی اغیظ رجل علی حکم اﷲ تعالٰی اھ۔ اقول:(میں کہتاہوں)تجھ پر مخفی نہیں ہے کہ اس تاویل میں شدید بعد ہے خلاصہ یہ کہ ان حضرات کی تاویل کا ماحاصل یہ ہے کہ وہ شخص اﷲ تعالٰی کے حکم پر لوگوں میں سے شیدید مغضوب ہوگا حالانکہ میں کہتاہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے مگر ہم غیظ کو عاجز کا غضب قرار دے کر اس کا صدور شخص مذکور سے بنائیں تو ہم تمام اعتراض سے بچ جائیں گے اور اس معنی کا انکار ہمارے لیے قابل قبول نہ ہوگا کیونکہ عذاب میں مبتلا ہونیوالے اﷲ تعالٰی کی عظمت ونعمت کے منکر شخص کو لازما اپنے ملك ہونے کی بناء پر عذاب کی وجہ سے غصہ آئیگا،اور جیسے جیسے عذاب کی شدت ہوگی اس کے غصے میں شدت آئیگی تویہ تمام لوگوں سے بڑھ کر عذاب سے کنایہ ہے۔اس انداز سے اس کے ذکر کی مناسبت میں اپنے رب تعالٰی پر تکبر اور اس کی کبریائی میں مقابل بننے کی طرف اشارہ ہے توجب اس کو عذاب ہوگا تو اپنے گمان میں اﷲ تعالٰی کی عظمت واقتداء میں مساوی ہونےکے باوجود عذاب سے خلاصی میں اپنے بے بسی پر غیظ میں آئیگا تو اس کے غیظ کی مقدار کو اﷲ تعالٰی کے بغیر کوئی نہ جان سکے گا،والعیاذباﷲ تعالٰی۔و اﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع