30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
القیمۃ واخبثہ واغیظہ |
میں اور سب سے بڑھ کر خبیث اور سب سے زیادہ |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) صاحبہ ویغیظ علیہ وھو مغیظ مخنق لان المعنی یاباہ کما لایخفی ثم اخذ فی التاویل فقال ولکن بیان کانہ لما قیل اغیظ رجل قیل علی من؟ قیل علی اﷲ [1]اھ،وانت تعلم انہ لم یأت بشیئ واثما جعلہ صلۃ الاغیظ کما کان وقال القاضی الامام اسم تفضیل بنی للمفعول [2]اھ ۔اقول و انت تعلمانہ خلاف الاصل ثم بھٰذا التاویل لما صار الغیظ مضافا الی اﷲ تعالٰی وھو محال منہ لانہ غضب العاجز عن الانتقام کما فی المرقاۃ احتاجوا الی تاویلہٖ بانہ مجاز عن عقوبتہٖ کما فی النہایۃ والطیبی والمرقاۃ ثم بعد ھذا الکل لم یتضح کلمۃ علی،فالتجأ القاری الی انہ علی حذف مضاف ای بناء علی حکمہ تعالٰی [3]اھ،اقول:ولا یخفٰی علیك مافیہ |
صاحبہ"اور"یغیظ علیہ"میں صلہ بن رہا ہے کیونکہ"علٰی" کا "اغیظ"کے لئے صلہ ہونا معنی کے خلاف ہے جیسا کہ ظاہر ہے، طیبی نے یہ بیان کرنے کے بعد تاویل شروع کی،گویا بیان یوں ہے کہ جب"اغیظ رجل"کہا گیا تو سوال ہوا کہ کس پر،تو جواب میں کہا گیا اﷲ پر اھ،حالانکہ آپ پر واضح ہے کہ یہ تاویل بے مقصد ہے اور"علی"ویسے ہی"اغیظ"کاصلہ رہا ہے۔اور قاضی نے تاویل میں فرمایا کہ اغیظ اسم تفضیل مفعول کے معنٰی میں ہے اھ، اقول:(میں کہتاہوں)آپ کو معلوم ہونا چہائے کہ یہ بھی خلاف اصل ہے نیز یہ کہ جب غیظ کی اضافت اﷲ تعالٰی کی طرف ہوئی تو اﷲ تعالٰی کے لئے یہ معنی محال ہے کیونکہ یہ اتنقام سے عاجز والا غضب ہے۔(جبکہ اﷲ تعالٰی عجز سے پاك ہے)جیسا کہ مرقاۃ میں ہے سب اس کی تاویل پر ہیں کہ یہ کلام اس شخص پر اﷲ تعالی کے عقاب و عذاب سے مجاز ہے جیسا کہ نہایہ،طیبی،مرقاۃ (باقی بر صفحہ آ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع