30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر تیسیر شروح جامع الصغیر اور علامہ طاہر نے مجمع البحار،ارور علامہ قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں دونوں ذکر فرمائیں،طیبی پھر ارشاد الساری پھر فیض القدیر نے اشارہ کیا کہ تاویل اول ابلغ ہے۔
|
حیث قال اَعْنِی الطیبی یمکن ان یراد بالاسم المسمی ای اخنع الرجال کقولہ سبحانہ وتعالٰی سبح اسم ربك الاعلٰی وفیہ مبالٖغۃ لانہ اذا قدس اسمہ عما لا یلیق بذاتہ فذاتہ بالتقدیس اولی واذا کان الاسم محکوما علیہ بالصغار والہوان فکیف المسمی بہ [1] اھ نقلہ فی فیض القدیر ونحوہ فی الارشاد۔ |
چنانچہ طیبی نے کہا یہاں اسم سے مسمی مراد لیاجاسکتاہے یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل وپست،جیسا کہ اﷲ عزوجل کا یہ ارشاد"اپنے رب اکبر کے نام کی پاکی بولو"اور اس میں مبالغہ ہےکیونکہ جب نامناسب چیزوں سے اسم الٰہی کی تقدیس ضروری ہے تو خود ذات باری تقدیس کی کتنی مستحق ہوگی،لہذا جب(ملك الملوك جیسے)نام پر ذلت(حقارت)کا حکم ہے تو اس کے مسمی کا کیا حال ہوگا ۱۲م۔ |
مرقاۃ نے تصریح کی کہ یہی تاویل بہترہے:
|
حیث قال بعد نقلہ نحوما مرعن القبض ومثل مافی الارشاد مانصہ،وھذا التاویل ابلغ واولی لانہ موافق لروایۃ اغیظ رجل اھ [2]۔ |
چنانچہ فیض القدیر کی مذکورہ عبارت کے ہم معنی اور عبارت ارشاد کے ہم مثل ایك عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا یہ تاویل بلیغ تر اور سب سے بہتر ہے کیونکہ یہ اس روایت کے مطابق ہے جس میں ایسے نام رکھنے والوں کو سب سے زیادہ خبیث بتایا ۱۲م |
بلکہ تاویل دوم پر افعل التفضیل اس کے غیر پر صادق آئے گا،کہ بلا شبہہ ملك الاملاك نام رکھنے سے اﷲ یا رحمن نام رکھنا بدرجہا بدتر وخبیث ترہے۔ابوالعتاہیہ شاعر کی نسبت منقول ہوا کہ اس کی دو۲ بیٹیاں تھیں ایك کانام اﷲ اور دوسری کانام رحمن۔والعیاذ باﷲ تعالٰی:ذکر کیا جاتاہےکہ پھر اس نے اس سے تو بہ کرلی تھی،فیض القدیر علامہ مناوی میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع