30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایك یہ کہ مجازا نام سے ذات مراد ہے۔یعنی روز قیامت اﷲ تعالٰی کے نزدیك سب آدمیوں سے بدتر وہ شخص ہے جس نے اپنایہ نام رکھے۔
دوسری یہ کہ خبر میں حذف مضاف ہے یعنی اﷲ تعالٰی کے نزدیك روز قیامت سب ناموں سے بدتر یہ نام ہے۔
مصابیح واشعۃ اللمعات وسراج المنیر شرح جامع صغیر میں تاویل ثانی ذکر کی،امام قرطبی نے مفہم،اور امام نووی نے منہاج اور علامہ حفنی نے حواشی جامع الصغیر میں اول پر جزم واختصار کیا، فیض القدیر میں قرطبی سے ہے:
|
المراد بالاسم المسمی بدلیل روایۃ اغیظ رجل و اخبثہ [1]۔ |
نام سے ذات مرا دہے کیونکہ ایك روایت کے الفاظ یہ ہیں "آدمیوں میں سب سے بدتر اور خبیث"۱۲م |
شرح امام نوروی میں ہے:
|
قالوا معناہ اشد ذلا وصغارا یوم القیامۃ والمراد صاحب الاسم وتدل علیہ الروایۃ الثانیۃ اغیظ رجل [2]۔ |
علماء نے فرمایا اس کا معنی یہ ہےکہ قیامت کے دن سب سے زیادہ ذلیل وحقیر،اور اس سے مراد مسمی ہے جیسا کہ دوسری روایت میں اغیظ رجل(لوگوں میں سب سے بدتر)کا لفظ بتارہا ہے۔۱۲م |
حواشی حفنی میں ہے:
|
اخنع الاسماء ای مسمی الاسماء بدلیل قولہ رجل لانہ المسمی لاالاسم [3]۔ |
ناموں میں سب سے زیادہ ذلیل یعنی نام والوں میں سب سے زیادہ ذلیل،کیونکہ ایك روایت میں رجل(آدمی)کا لفظ آیا ہے۔اور ادمی مسمی ہے نہ کہ اسم ۱۲م |
علامہ طیبی نے شرح مشکوٰۃ،پھر علامہ قسطلانی نے شرح بخاری پھر علامہ مناوی نے فیض القدیر،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع