30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتاہے یعنی جب اقضٰی کی اضافت سب کی طرف ہے۔اور اس میں قضاۃ بھی داخل۔تو اَقضَاکُمْ سے اقضی القضاۃ بھی حاصل، ظاہر ہے کہ اقضاکُمْ عموم میں مالك الناس و مَلِك النَّاس ومَالِك رِقَاب الْاُمَمِ کے برابر نہیں کہ وہ بظاہر صرف مخاطبین سے خاص ہے،تو ان الفاظ کریمہ سے مالك الملوك وملك الملوك ومالك رقاب الملوك وشہنشاہ بدرجہ اولٰی ثابت پس آیت و حدیث میں ان ارشادات عالیہ کا آنا دلیل روشن ہے کہ نہی صرف اسی طور پر ہے جیسے مولٰی وسید کہنے سے منع فرمایا حالانکہ قرآن وحدیث خود ان کا اطلاق فرمارہے ہیں وﷲ الحمد۔
رابعًا:اگر یہاں کوئی حدیث دربارہ نہی ثابت بھی ہو تو کلام مذکور اس کے لئے کافی ووافی ہے نظر دقت میں یہاں ایك حدیث ابن النجار ہے کہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
|
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سمع رجلا یقول شاھان شاہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اَﷲُ مَلِك الْمَلُوْك [1]۔ |
یعنی ایك شخص نے دوسرے کو پکارا:اے شاہان شاہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سن کر فرمایا:شاہان شاہ اﷲ ہے۔اس کی تو صحت بھی ثابت نہیں۔ |
رہی حدیث جلیل صحیح ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ صحیحین وسنن ابی داؤد وجامع الترمذی میں مروی:
|
اخنع الاسماء عنداﷲ یوم القیمۃ رجل تسمٰی مَلِك الْاَمْلَاك [2]۔ |
روز قیامت اﷲ تعالٰی کے نزدیك سب ناموں میں زیادہ ذلیل وخوار وہ شخص ہے جس نے اپنا نام مالك الاملاك رکھا۔ |
یہ بداہۃً طالب تاویل ہے ك وہ شخص خود نام نہیں،اور اس روایت کے لفظ یہ ہیں کہ وہ شخص سب سے برا نام ہے۔علماء نے اس میں دو۲ تا ویلیں فرمائیں:
[1] کنز العمال بحوالہ ابن النجار حدیث ۴۵۹۹۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۵۹۶
[2] صحیح البخاری کتاب الادب باب البغض الاسماء الی اﷲ تعالٰی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۶،سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییر اسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۲،جامع الترمذی کتاب الادب باب مایکرہ من الاسماء امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷،صحیح مسلم کتاب الالفاظ باب تحریم بملك الاملاك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع