30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قاطع ہرکلام یہ کہ حدیث کی تفسیر کرنے والا خود حدیث سے بہترکوئی نہیں ہوسکتا۔ |
۳۶۸ |
ششم(سادسًا) |
۳۷۷ |
|
حدیث"اغیظ رجلٍ علی اﷲ"کی تاویل۔ |
۳۶۸ |
حدیث میں ممانعت شہنشاہ وغیرہ نام رکھنے کی ہے نہ کہ وصف بنانے کی۔ |
۳۷۷ |
|
پنجم(خامسًا) |
۳۷۱ |
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا سے صحابی کے کسی دانت میں نوّے برس کی عمر تک جنبش نہیں ہوئی۔ |
۳۷۸ |
|
مالک الملوک نام رکھنے کی علت نہی بندے کا متکبرہوناہے۔ |
۳۷۱ |
ہفتم(سابعًا) |
۳۷۸ |
|
علت منع تکبرکوماناجائے توممانعت اپنے آپ کو خود شہنشاہ کہنے کی ہوگی،دوسرے نے اگر معظم دینی سمجھ کر تعظیم کی تو اس کو تکبر سے کیانسبت۔ |
۳۷۳ |
"حاجیوآؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو"میں شہنشاہ سے مراد خود اﷲ تعالٰی اور روضہ کامعنی خیابان،تو اسی روضہ شہنشاہ کا معنی ہوا خیابان الٰہی اور خدا کی کیاری۔ |
۳۷۸ |
|
حاصل یہ کہ لفظ شہنشاہ اور اس کے مترادفات سے تمام ممانعتیں تکبر سے بچنے کے لئے ہیں،اور تکبرخود اپنے کہنے سے ہے دوسرے کے کہنے سے نہیں،پھر اپنے آپ کو کہنے میں بھی حقیقۃً حکم نیت پردائر ہوگا،اگربوجہ تعلی وتکبر ہے توقطعًا حرام ورنہ نہیں۔ |
۳۷۴ |
روضہ کا معنی قبرنہیں بلکہ خیابان اور کیاری ہے۔ |
۳۷۸ |
|
اپنے غلام کو بلانیتِ تکبرکہا"اے میرے بندے"توحرج نہیں۔ |
۳۷۴ |
قبرپرروضہ کا اطلاق تشبیہِ بلیغ ہے جیسے رأیت اسدًایرمی۔ |
۳۷۸ |
|
اپنے آپ کو عالم کہنا برسبیل تفاخر ہو توحرام،ورنہ جائزہے۔ |
۳۷۵ |
حدیث میں قبرِمومن کو روضۃ من ریاض الجنۃ کہاگیا۔ |
۳۷۸ |
|
اسبالِ ازار بطور تکبرہوتوناجائزورنہ نہیں۔ |
۳۷۶ |
قرآن مجید میں مدیبہ طیبہ کی تمام زمین کو ارض اﷲ(اﷲ کی زمین)کہاگیا۔ |
۳۷۹ |
|
بطورتکبراسبالِ آزار پرسخت وعیدیں۔ |
۳۷۶ |
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شاہ طیبہ بھی ہیں شاہ روئے زمین بھی اور شاہ تمام اولین وآخرین بھی،جن میں ملوک و سلاطین سب داخل ہیں۔ |
۳۷۹ |
|
سیدناصدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ کا اسبال ازار سے متعلق اظہارتشویش اور حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا جواب۔ |
۳۷۶ |
جواب سوال دوم۔ |
۳۷۹ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع