30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علماء فرماتے ہیں ایك فریق نے مقصود پر نظر کی اور دسرے نے لفظ کو دیکھا۔
اقول:یعنی اور اس پر عمل خلاف مقصود نہ تھا بخلاف جمود ظاہر یہ کہ مقصود سے یکسر دور پڑتا،اور احکام شرعیہ کو معاذ اﷲ محض بے معنی ٹھہراتا ہے کما ھو مَعْہُوْدمِن دابہم(جیسا کہ ان کی عادت معروف ہے۔ت)لہذا فریقین میں کسی پر ملامت نہ فرمائی، یہی حال یہاں ہے۔
ثانیًا: اسے یوں بھی تحریر کرسکتے ہیں کہ مانعین نے ظاہر نہی پر نظر کی کہ اس میں اصل تحریم ہے اور اطلاق کرنے والوں نے دیکھا کہ لفظ ارادۃ وافادۃ ہر طرح شناعت سے پاك ہے تو نہی صرف تنزیہی ہے کہ منافی جواز واباحت نہیں،جس طرح حدیث میں ارشاد ہوا۔
|
لَا یَقُلِ الْعَبْدُ رَبِّیْ [1]۔ |
غلام اپنے آقا کو اپنار ب نہ کہے۔ |
اور فرماتاہے:
|
لَا یَقُلْ اَحَدُکُمْ اَسْقِ رَبَّك اَطْعِمْ رِبَّك وَضِّئ رَبَّك وَلاَ یَقُلْ اَحَدُ کُمْ رَبِّیْ [2]۔ |
تم میں سے کوئی نہ کہے کہ اپنے رب کو پانی پلا۔اپنے رب کو کھانا کھلا،اپنے رب کو وضو کرا،اور نہ کوئی کسی کو اپنا رب کہے۔ |
اور علماء نے تصریح فرمائی کہ یہ نہی صرف تنزیہی ہے۔امام نووی رحمۃ اﷲ تعالٰی شرح صحیح مسلم شریف میں اسی حدیث کے تحت میں فرماتے ہیں:
|
النہی للادب وکراھۃ التزیہ لا للتحریم [3]۔ |
ممانعت بطور ادب ہے اور کراہت تنریہی ہے نہ کہ تحریمی۔ |
امام بخاری اپنی صحیح میں فرماتے ہیں:
|
باب کراھۃ التطاول علی الرقیق و قولہ عبدی وامتی وقال اﷲ تعالٰی " الصّٰلِحِیۡنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ ؕ"وقال عبدا |
یہ باب ہے اس بارے میں کہ غلام پر زیادتی مکروہ ہے اور آقا کے اس قول کے سلسلہ میں کہ میراعبد اور میری باندی ہے۔ اور اﷲ تعالٰی عزوجل کا یہ ارشاد"اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا" |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع