30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" مَاذَاۤ اُجِبْتُمْ ؕ قَالُوۡا لَا عِلْمَ لَنَا ؕ"[1] |
تمھیں کیا جواب ملا عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں۔ |
وفد بنی عامر نے حاضر ہوکر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی:اَنْتَ سَیِّدُنَا حضور ہمارے سید ہیں۔فرمایا: اَلسَّیِّدُ اﷲُ سید تو خدا تعالٰی ہی ہے۔
|
رواہ احمد ابوداؤد[2] عن عبداﷲ بن الشخیر العامری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
اسے روایت کیا ہے احمد اور ابوداؤد نے عبداﷲ بن شخیر عامری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے(ت) |
یوں ہی نہ ملك الملوك بلکہ صرف مالك ہی،قال اﷲ تعالٰی:
|
" لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ۫"[3] |
اسی کے لئے ملك اور اسی کے لئے تعریف۔ |
وقال اﷲ تعالٰی:
|
" لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ؕ"[4] |
آج کس کی بادشاہی ہے۔ |
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اسی حدیث مَلِك الْمُلُوْك کی تعلیل میں فرمایا:لَا مَلِك اِلَّا اﷲُ بادشاہ کوئی نہیں سوائے اﷲ تعالٰی کے۔رواہ مسلم [5]عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ(اسے روایت کیا ہے مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے۔ت)
اورا مام الائمہ،شیخ الشیوخ شیخ المشائخ اپنے استغراق حقیقی پر یقینا حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ خاص،اور دوسرے پر اطلاق قطعا کفر کہ اس کے عموم میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی داخل ہوں گے،اور معنی یہ ٹھہریں گےکہ فلاں شخص معاذاﷲ حضور سید العالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا بھی شیخ وامام ہے۔اور یہ صراحۃ کفر ہے۔مگر حاشا ان تمام الفاظ میں نہ ہر گز یہ معنی قائلین کی مراد نہ ان کے اطلاق سے مفہوم ومفاد اور اس پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع