30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غرض کلمات اکابر میں اس کے صدہا نظائر ملیں گے،ہمیں کیا لائق ہے کہ ان تمام ائمہ ورفقہااء وعلماء وعرفاء رحمہم اﷲ تعالٰی قدست اسرارھم پر طعن کریں وہ ہم سے ہر طرح اعرف واعلم تھے،لہذا واجب کہ بتوفیق الٰہی نظر فقہی سے کام لیں،اور اس لفظ کے منع وجواز میں تحقیق مناط کریں کہ مسئلہ قطعا معقول المعنی ہے نہ کہ محض تعبدی
فاقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ سے ہے۔ت)ظاہر ہے کہ اصل منشا ئے منع اس لفظ کا ستغراق حقیقی پر حمل ہے یعنی موصوف کا استثناء تو عقلی ہے کہ خود اپنے نفس پر بادشاہ ہونا معقول نہیں۔اس کے سوا جمیع ملوك پر سلطنت اوریہ معنٰی قطعا مختص بحضرت عزت عزجلالہ ہیں،اور اس معنی کے ارادے سے اگر غیر پر اطلاق ہو تو صراحۃ کفر ہے کہ اس کے استغراق حقیقی میں رب عزوجل بھی داخل ہوگا یعنی معاذاﷲ موصوف کو اس پر بھی سلطنت ہے یہ ہر کفر سے بد تر کفر ہے۔ مگر حاشا ہر گز کوئی مسلمان اس کا ارادہ کرسکتاہے نہ زنہار کلام مسلم میں یہ لفظ سن کر کسی کا اس طرف ذہن جاسکتاہے،بلکہ قطعا قعطا عہد یا استغراق عرفی ہی مراد اور وہی مفہوم ومستفاد ہوتاہے کہ قائل کااسلام ہی اس ارادہ پر قرینہ قاطعہ ہے۔جیسا کہ علماء نے موحد کے اَنْبَتَ الرَّبِیْعُ الْبَقَلَ(موسم ربیع نے سبزہ اگایا)کہنے میں تصریح فرمائی،نیز فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
سئل فی رجل حلف لایدخل ھذہ الدار الا ان یحکم علیہ الدھرفدخل ھل یحنث(اجاب)لا،وھذا مجاز لصدورہٖ عن المواحد والحکم القضاء واذا ادخلہا فقد حکم ای قضٰی علیہ رب الدھر بدخولہا وھو مستثنٰی من یمینہ،فلاحنث ۱[1]۔ |
ایك ایسے شخص کے بارے میں استفتاء کیا گیا جس نے یہ قسم کھالی تھی کہ اس گھر میں داخل نہ ہوں گا،جب تك کہ اس پر زمانہ کاحکم نہ ہو،پھر وہ اس گھر میں داخل ہوا تو کیا اس کی قسم ٹوٹ جائیگی،جوا ب نفی میں ملا،چونکہ موحد سے یہ جملہ صادر ہوا اس لئے مجاز قرار پائےگا اور حکم بمعنی قضاء ہے وار جب وہ شخص داخل ہوا تو اس کا دخول رب الدہر کے حکم اور قضاء سے ہوا ہے اور یہ اس قسم سے مستثنٰی ہے لہذا حانث نہ ہوگا الخ۔ |
اب رہا یہ کہ استغراق حقیقی اگر چہ نہ مراد نہ مفہوم مگر مجرد احتمال ہی موجب منع ہے۔یہ قطعا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع