30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں مروی اور اکابر محدثین مثل امام ترمذی وامام طبرانی وامام بیہقی وابوعبداﷲ حاکم امام عبدالعظیم منذری وغیرہم اسے صحیح فرماتے آئے ہیں جسے خود حضور پر نور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے لئے تعلیم،اور صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے زمانہ اقدس اور حضورکے بعد زمانہ امیر المومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں حاجت روائی کا ذریعہ بنایا،اس میں کیا تھا،یہی نا کہ یار سول اللہ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طر ف توجہ کرتاہوں کہ وہ میری حاجت روا فرمائے،اس میں معاذاﷲ قدرت بالذات کی کہاں بو تھی جو نواب صاحب کو پسند نہ آئی کہ نہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد کا پاس نہ صحابہ وتابعین کی تعلیم وعمل کا لحاظ نہ اکابر حفاظ حدیث کی تصحیح کا خیال،سخت ڈھٹائی کے ساتھ حاشیہ ظفر جلیل پر حدیث صحیح کو بزور زبان وزور بہتان رد کرنے کے لئے عقل و شرع کی قید سے بے دھڑك بے پرکی اڑادی کہ یہ حدیث قابل حجت نہیں،انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
اس واقعہ عبرت خیز کا بیان ہمارے رسالہ انھار الانوار میں ہے۔اب دیکھئے کہ نہ فقط اولیاء بلکہ خود حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والثناء سے استعانت جائز ومحمودہ،خود حضور اقدس کی فرمودہ،صحابہ وتابعین کی معمولہ ومقبولہ،صحیح حدیث میں ان لوگوں کا یہ حال ہے " قُلْ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمْؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴿۱۱۹﴾"[1]۔
ثالثًا: سب جانے دو،سرے سے یہ ناپاك ادعاہے کہ بندگان خدا محبوبان خدا کو قادر مستقل جان کر استعانت کرتے ہیں،ایك ایسی سخت بات ہے جس کی شناعت پر اطلاع پاؤ تو مدتوں تمھیں توبہ کرنی پڑے اہل لا الہ الا اﷲ پر بدگمانی حرام،اور ان کے کام کہ جس کے صحیح معنی بے تکلف درست ہوں خواہی نخواہی معاذاﷲ معنی کفر کی طرف ڈھال لے جانا قطعا گناہ کبیرہ ہے۔حق سبحانہ وتعالٰی فرماتاہے:
|
" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ"[2] |
اے ایمان والو! بہت گمانوں کے پاس نہ جاؤ،بیشك کچھ گمان گناہ ہیں۔ |
اور فرماتاہے:
|
" وَ لَا تَقْفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ |
پیچھے نہ پڑ اس بات کے جو تجھے تحقیق نہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع