30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھوڑتے ہیں کہ صاحبو! ہم بھی اسی استعانت کو شرك کہتے ہیں جو غیر خدا کو قادر بالذات و مالك مستقل بے عطائے الٰہی جان کر کی جائے،اور اپنی بات بنانے اور خجلت مٹانے کو ناحق ناروا بیچارے عوام مومنین پر جیتا بہتان باندھتے ہیں کہ وہ ایسا ہی سمجھ کرانبیاء واولیاء سے استعانت کرتے ہیں ہمارایہ حکم شرك انھیں کی نسبت ہے۔اس ہار ے درجہ کی بناوٹ کا لفافہ تین طرح کھل جائے گا۔
اوّلًا: صریح جھوٹے ہیں کہ صرف اسی صور ت کو شرك جانتے ہیں ان کے امام خود تقویۃ الایمان میں لکھ گئے ہیں:
"کہ پھر خواہ یوں سمجھے کہ ان کاموں کی طاقت ان کو خود بخود ہے خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ نے ان کو ایسی قدرت بخشی ہے ہرطرح شرك ہوتاہے۔"[1]
کیوں اب کہاں گئے وہ جھوٹے دعوے۔
ثانیًا:ان کے سامنے یوں کہئے کہ یا رسول اﷲ ! حضور کو اﷲ تعالٰی نے اپنا خلیفہ اعظم ونائب اکرم وقاسم نعم کیا،دنیا کی کنجیاں، زمین کی کنجیاں،خزانو ں کی کنجیاں،مدد کی کنجیاں،نفع کی کنجیاں حضور کے دست مبارك میں رکھیں،روزانہ دو وقت تمام امت کے اعمال حضور کی بارگاہ میں پیش کرائے،یارسول اللہ!میرے کام میں نظررحمت فرمائے اﷲ کے حکم سے میری مدد وعافیت فرمائے۔
اب ان لفظوں میں توصراحۃ قدرت ذاتی کاانکار اور مظہر عون الہٰی کی تصریح ہے ان میں تو معاذاﷲ اس ناپاك گمان کی بو بھی نہیں آسکتی،یہ کہتے جائے اور ان صاحبوں کے چہرے کو غور کرتے جائے،اگر بکشادہ پیشانی سے سنیں اور آثار کراہت وغیظ ظاہر نہ ہو جب تو خیر،اور اگر دیکھئے کہ صورت بگڑی،ناك بھوں سمٹی،منہ پر دھوئیں کی مانند تاریکی دوڑی،تو جان لیجئے کہ دلی آگ اپنا رنگ لائی ع
کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں
سبحان اللہ! میں عبث امتحان کو کہتا ہوں بارہا امتحان ہو ہی لیا،ان صاحبوں میں نواب دہلوی مصنف ظفر جلیل تھے، حدیث عظیم وجلیل ثابت یامحمد انی توجہت بك الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی [2]کہ صحاح ستہ سے تین صحاح جامع ترمذی،سنن نسائی،سنن ابن ماجہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع