30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرشتے ہوسکتے ہیں،حاشاﷲ اﷲ تبارك وتعالٰی کاکوئی شریك نہیں ہوسکتا،تو مثلا جوبات ندا خواہ کوئی شے جس اعتقاد کے ساتھ کسی پاس بیٹھے ہوئے زندہ آدمی سے شرك نہیں وہ اسی اعتقاد سے کسی دور والے یا مردے بلکہ اینٹ پتھر سے بھی شرك نہیں ہوسکتی،اور جو ان میں سے کسی سے شرك ٹھہرے وہ قطعا یقینا تمام عالم سے شرك ہوگی،اس استعانت ہی کو دیکھئے کہ جس معنی پر خدا سے شرك ہے یعنی اسے قادر بالذات ومالك مستقل جان کر مدد مانگنا۔بہ ایں معنی اگر دفع مرض میں طبیب یادوا سے استمداد کرے یا حاجت فقر میں امیر یا بادشاہ کے پاس جائے یا انصاف کرانے کو کسی کچہری میں مقدمہ لڑائے،بلکہ کسی سے روز مرہ کے معمولی کاموں ہی میں مدد لے جو بالیقین تمام مخالفین روزانہ اپنی عورتوں،بچوں،نوکروں سے کرتے کراتے رہتے ہیں،مثلًایہ کہنا کہ فلاں چیزاٹھادے یا کھانا پکادے،یا پانی پلادے سب شرك قطعی ہے کہ جب یہ جانا کہ اس کام کے کر دینے پر انھیں خود اپنی ذات سے بے عطائے الٰہی قدر ت ہے تو صریح کفر اور شرك میں کیا شبہہ رہا،اور جس معنی پر ان سب سے استعانت شرك نہیں یعنی مظہر عون الٰہی وواسطہ و سیلہ وسبب سمجھنا اس معنی پر حضرات انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء سے کیوں شرك ہونے لگی،مگر حکیم،امیر،جج،اولاد،نوکر،جورو،ان سب کو مظہر عون وسبب ووسیلہ جاننا جائز ہے۔اور ان حضرات عالیہ کو کہ وہ اعلی مظہر واعظم سبب وافضل وسائل بلکہ منتہی الاسباب وغایۃ الوسائط ونہایۃ الوسائل ہیں،ایسا سمجھنا شرك ہوگیا،ہزار تف بریں بے عقلی وناانصافی،غرض پانی وہیں مڑتاہے کہ جو کچھ غصہ ہے۔وہ حضرات محبوبان خداکے بارے میں ہے۔جو رو،یار،بچے مددگار،نوکر،کارگزار مگر انبیاء،واولیاء کانام آیا اور سر پر شرك کا بھوت سوار یہ کیا دین ہے۔کیسا ایمان ہے ! ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
مسلمین اس نکتے کو خوب محفوظ ملحوظ رکھیں،جہاں ان چالاکوں،عیاروں کو کوئی فرق کرتے دیکھیں کہ فلاں عمل یا فلاں اعتقاد فلاں کے ساتھ شرك ہے فلاں سے نہیں،یقین جان لیجئے کہ نرے جھوٹے ہیں،جب ایك جگہ شرك نہیں تو اس اعتقاد سے کسی جگہ شرك نہیں ہوسکتا،واﷲ الھادی الی طریق سوی۔
فائدہ ضروریہ
مخالفین جب سب طرح عاجز آجاتے ہیں اور کسی طرف راہ مفر نہیں پاتے تو ایك نیا شگوفہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع