30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت انبیاء واولیاء علیہم السلام والثناء سے استعانت پر جمائیں اور آپ حکیم جی سے دوا کرانے،نواب راجہ کی نوکری کرنے،منصف ڈپٹی کے یہاں نالش لڑانے کو الگ بچ جائیں،سبحان اﷲ کہاں وہ تبتل تام واسقاط تدبیر واسباب کامقام جس کی طرف امام رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے اس قول میں ارشاد فرمایا جس کے اہل مریض ہوں تو دوا نہ کریں۔بیماری کو کسی سبب کی طرف نسبت نہ فرمائیں،عین معرکہ جہاد میں کوڑا ہاتھ سے گر پڑے تو دوسرے سے نہ کہیں آپ ہی اتر کے اٹھائیں،اور کہاں مقام شریعت مطہرہ واحکام جواز ومنع وشرك واسلام مگران ذی ہوشوں کے نزدیك کمال تبتل وشرك متقابل ہیں کہ جو اس اعلٰی درجہ انقطاع محض وتفویض تام پر نہ ہوا مشرك ٹھہرایا،انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
ذرا آنکھیں کھول کردیکھو،اسی حکایت کے بعد شاہ صاحب نے کیسی تصریح فرمادی کہ استعانت بالغیروہی ناجائزہے کہ اس غیر کو مظہر عون الٰہی نہ جانے بلکہ اپنی ذات سے اعانت کا مالك جان کر اس پر بھروسا کرے،اور اگر مظہر عون الٰہی سمجھ کر استعانت بالغیر کرتاہے تو شرك وحرمت بالائے طاق،مقام معرفت کے بھی خلاف نہیں خود حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام نے ایسی استعانت بالغیر کی ہے۔
مسلمانو! مخالفین کے ا س ظلم وتعصب کا ٹھکانا ہے کہ بیمار پڑیں تو حکیم کے دوڑیں،دوا پر گریں،کوئی مارے پیٹے تو تھانے کو جائیں، رپٹ لکھائیں،ڈپٹی وغیرہ سے فریاد کریں،کسی نے زمین دبالی کہ تمسك کا روپیہ نہ دیا تو منصف صاحب مدد کیجیو،جج بہادر خبر لیجیو،نالش کریں،استغاثہ کریں،غرض دنیا بھر سے استعانت کریںِ اور حصر ایاك نستعین کو اس کے منافی نہ جانیں،ہاں انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء سے استعانت کی اور شرك آیا،ان کاموں کے وقت آیت کاحصر کیوں نہیں یاد آتا،وہاں تو یہ ہے کہ ہم خاس تجھی سے استعانت کرتے ہیں،کیا مخالفین کے نزدیک"خاص تجھی"میں بید،حکیم،تھانیدار،جمعدار،ڈپٹی،منصف، جج وغیرہ سب آگئے کہ یہ اس حصر سے خارج نہ ہوئے،یا معاذا ﷲ آیہ کریمہ کا حکم ان پر جاری نہیں،یہ خدا کے ملك سے کہیں الگ بستے ہیں،ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
غرض مخالفین خود بھی دل میں خوب جانتے ہیں کہ آیہ کریمہ مطلق استعانت بالغیر کی اصلا ممانعت نہیں،نہ وہ ہر گز شرك یاممنوع ہوسکتی ہے بلکہ استعانت حقیقیہ ہی رب العزۃ جل وعلا سے خاص فرمائی گئی ہے اور اس کا اختصاص کسی طرح حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع