30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ وسلم سے استعانت کی،حضور والا نے مدد عطا فرمائی۔
|
عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتاہ رعل وذکوان وعصیۃ وبنو لحیان فزعموا انہم قد اسلموا واستمدوہ علی قومہم فامدھم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[1] الحدیث۔ |
حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس رعل،ذکوان،عصیہ اور بنولحیان قبائل کے لوگ آئے اور انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں اور اپنی قوم کے لئے آپ سے مدد طلب کی، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی مدد کی۔الحدیث۔ (ت) |
حدیث ۱۴:صحیح مسلم وابوداؤد وابن ماجہ ومعجم کبیرطبرانی میں ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے حضور پر نور سید العالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:مانگ کیا مانگتاہے کہ ہم تجھے عطافرمائیں،عرض کی میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں حضور کی رفاقت عطا ہو،فرمایا بھلا اور کچھ،عرض کی بس میری مراد تو یہی ہے،فرمایا تو میری اعانت کر اپنے نفس پر کثرت سجود سے،قال کنت ابیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل،ولفظ الطبرانی فقال یوما یاربیعۃ سلنی فاعطیك رجعنا الی لفظ مسلم فقال فقلت اسألك مرافقتك فی الجنۃ،قال اوغیرذٰلک۔قلت ھو ذاک،قال فاعنی علی نفسك بکثرۃ السجود [2]۔
الحمد ﷲ یہ جلیل ونفیس حدیث صحیح اپنے ہر ہر فقرہ سے وہابیت کش ہے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اَعِنِّیْ فرمایا کہ میری اعانت کر،اسی کو استعانت کہتے ہیں،یہ درکنار حضور والا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا مطلق طور پر سَلْ فرماناکہ مانگ کیا مانگتاہے،جان وہابیت پر کیسا پہاڑ ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضو رہر قسم کی حاجت روا فرماسکتے ہیں،دنیا وآخرت کی سب مرادیں حضور کے اختیار میں ہیں جب تو بلاتقیید وتخصیص فرمایا:مانگ کیا مانگتاہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع