30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بزرگا بزرگی دہا بیکسم توئی یاوری بخشش ویاری رسم
(اے بزرگ ! بزرگی عطا فرما کہ میں بیکس ہوں،تو ہی حمایت کرنے ولا اورمیری مدد کو پہنچنے والاہے)
اور حضرت سفیان ثوری رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ کاقصہ دلچسپ وعبرت دلہا بیان کرتاہے جو تحفۃ العاشقین میں لکھا ہے کہ ایك روز آپ نماز پڑھ رہے تھے جب نستعین پر پہنچے بیہوش ہوکر گر پڑے،جب ہوش ہوا فرمایا:جب رب العالمین ایاك نستعین فرمائے اور میں غیر حق سے مانگوں مجھ سے زیادہ بے ادب کون ہوگا،دوسری آیت شریف جناب ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کے قصہ کی کہ انی وجہت وجھی للذی سے بیان کرتاہے اور بہت سی آیت شریفہ اور حدیث پاك اور قول علماء وصوفیہ بتاتا ہے لہذا مستدعی خدمت عالی ہوں کہ تردید اس کی مرحمت ہوکہ اس وہابی سے بیان کروں جو اب قرآن کا قرآن سے،حدیث کا حدیث سے،اقوال کا اقوال سے،ارشاد فرمائے گا او رمعنی لفظی ہوں،بینوا توجروا راقم نیاز احمد نبی خاں،سہسوان
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
|
الحمد ﷲ وبہ نستعین والصلٰوۃ والسلام علی اعظم غوث اکرم ومعین محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین۔ |
سب حمدیں اﷲ تعالٰی کے لیے،اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں،اور صلٰوۃ وسلام سب سے بڑے بزرگی والے غوث ومددگار محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہ وصحبہ اجمعین۔(ت) |
الحمدُ ﷲ آیات کریمہ تو مسلمان کی ہیں اور حضرت مولٰنا سعدی ومولٰنا نظامی قدس سرہ السامی کے جو اشعار نقل کئے وہ بھی حق ہیں،مگر وہابی حق باتوں سے باطل معنی کا ثبوت چاہتاہے جو ہر گز نہ ہوگا آیہ کریمہ انی وجّہت وَجْہِیَ کو تو اس مقام سے کوئی علاقہ ہی نہیں اس میں توجہ بقصد عبادت کا ذکر ہے کہ میں اپنی عبادت سے اسی کا قصد کرتاہوں جس نے پیدا کئے زمین وآسمان، نہ یہ کہ مطلق توجہ کا جس میں انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے استعانت بھی داخل ہوسکے،جلالین شریفین میں اس آیہ کریمہ کی تفسیر فرمائی۔
|
قالوالہ ماتعبد قال انی وجہت وجہی قصدت بعبادتی [1]الخ۔ |
یعنی کافروں نے سیدنا ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کہا تم کسے پوجتے ہو فرمایا:میں اپنی عبادت سے اس کا قصد کرتاہوں جس نے بنائے آسمان وزمین۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع