30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)قرآن عظیم کا مندر میں لیجا نا اس کی توہین ہے اور قرآن عظیم کی توہین کفر اور رامائن کی پوجا اگر کفر نہ ہوئی تو دنیا میں کوئی بات کفر نہیں ہوسکتی،اور کفر کے اہتمام میں شریك ہونا اور اس پر راضی ہونا کفر ہے الرضا بالکفر کفر(کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ت)وہ لوگ اسلام سے نکل گئے اور ان کی عورتیں ان کے نکاح سے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴)ممنوع ہے اور سخت ممنوع ہے شرکت کے سبب اگر ان کا روپیہ ہمارے یہاں کے کار خیرمیں میں صرف ہوگا تو مسلمان کا روپیہ ان کے کفر کے کاموں میں صرف ہوگا جن کو وہ کارخیر سمجھتے ہیں مثلا مندروں کی اعانت بتوں کی زینت وغیرہ،اور ان پر راضی ہونا کفر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۹: از امرتسر کٹرہ پرجہ مرسلہ غلام محمد صاحب دکاندار ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرح متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ اگر ہجرت ہی کرنی ہے تو بجائے کابل کے مدینہ منورہ ہجرت کروں گا کم از کم یہ تو ہوگا کہ مسجد نبوی شریف میں ایك نماز پرھنے سے بچاس ہزار نماز کا ثواب ہوگا اور کہتاہے دین مدینہ منور ہ سے نکلا ہے اور پھر اسی طرف پلٹ جائے گا،پس اس جگہ سے کون جگہ افضل ہوگی،اور اس زمانہ میں جبکہ نصارٰی کا قبضہ اس جگہ سے ہے کابل سے ہزار درجہ اس جگہ کی ہجرت کو افضل کہتاہے اور اپنے لئے باعث سلامتی دین وشفاعت تصور کرتاہے،زید کایہ خیال درست ہے یانہیں؟ یہ ہجرت اس کی درست ثابت ہوگی یا نہیں؟ اور اگر ہجرت میں یہ نیت کرے کہ جب تك بیت اﷲ شریف او رمدینہ منورہ پر کفار کا قبضہ ہے اتنی مدت اپنے وطن میں نہ آئے گا،ایسی نیت اس کی درست ہوگی یا نہیں؟
الجواب:
زید کے بالائی خیالات سب صحیح ہیں بیشك مدینہ طیبہ سے کسی شہر کو نسبت نہیں ہوسکتی،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
والمدینۃ خیرلہم لو کانوا یعلمون [1]۔ |
مدینہ ان کے لئے سب سے بہتر ہے اور وہ جانیں۔ |
مگر مدینہ طیبہ میں مجاورت ہمارے ائمہ کے نزدیك مکروہ ہے کہ حفظ آداب نہ ہوسکے گا اور قبضہ کفار کا بیان غلط ہے اور ہو تو یہ نیت کہ ان کے قبضہ تك وہیں رہے گا الٹی نیت ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
[1] صحیح البخاری فضائل المدینۃ باب من رغب عن المدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۲،صحیح مسلم کتا ب الحج باب ترغیب الناس فی سکنی المدینہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع