30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فربدینہ [1]الحدیث،واما ہجرت عامہ نباشد مگر از دار الحرب و ادعائے فرضیتش از دارالاسلام باطل محض ست و اصلی ندارد وتفوہ بتکفیر فرضیت غلو فی الدین ست وتکفیر تارك ازاں ہم بالاتر ضلال مبین ست مگر آنا نتر سنداز احادیث کثیرہ ناطقہ بانکہ اکفار مسلم کفر ست قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایما امرء قال لاخیہ کافر فقد باء بہا احد ھما فان کان کما قال والا رجعت علیہ رواہ مسلم [2]والترمذی عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما موجب ہجرت اگر تسلط نصارٰی است او نہ از امروز ست صد سال بیش می گزرد اینہا و آباء ایناں تاحال قیامت داشتند وبرزعم خود بترك تخم کدام حکم کاشتند واگر چیزے ست کہ درممالك دیر ناشیئ پس ایں حکم عجبے ست کہ حادثے بملکے رود ہجرت از ملك دیگر واجب شود،نسأل اﷲ العفو والعافیۃ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حدیث میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو کوئی اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا الحدیث،لیکن عام ہجرت سوائے دار حرب کے نہیں ہوسکتی لہذا دارالاسلام سے ہجرت کی فرضیت کادعوٰی کرنا بلا شبہہ باطل ہے یہ اپنے اندر کوئی اصلیت نہیں رکھتا۔ اور جو کوئی اس کی فرضیت کاا نکار کرے اسے کافر قرار دینا دین میں بڑی زیادتی ہے پھر تارك کی تکفیر اس سے بھی بڑھ کر گمراہی ہے،مگرکیا وہ لوگ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ بے شمار روایات اس پر ناطق ہیں کہ کسی مسلمان کوکافر قرار دینا کفر ہے۔چنانچہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ جس آدمی نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو یہ کفر ان دونوں میں سے کسی ایك پر پلٹ جائے گا،لہذا اگر کہنے والے کے مطابق وہ کافر ہے تو وہی کافر ہوگا ورنہ کہنے والے پر کفر لوٹ آئے گا،امام مسلم اور امام ترمذی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اس حدیث کو روایت کیا(جو لوگ ہجرت کے قائل ہیں اور اسے فریضہ ایمان قرار دیتے ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ) ہجرت کرنے کا سبب اور وجہ کیا ہے؟ اگر عیسائیوں کا تسلط ہے تو وہ کوئی آج نہیں ہوا بلکہ آج سے سو سال پہلے کا ہے پھراتنی مدت پر یہ لوگ اور ان کے باپ دادے اب تك یہاں کیوں ٹھہرے رہے اور اپنے خیال میں ہجرت نہ کرکے انھوں نے کون سے حکم کا بیچ بویا؟ اور اگر ہجرت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع