30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولو مملوکۃ [1] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کافرہ عورت چاہے آزادہو یا لونڈی سے نکاح کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
(۳)جس مسلمان عورت کا غلطی یاجہالت سے کسی ایسے کے ساتھ نکاح باندھا گیا اس پر فرض فرض فرض ہے کہ فورًا فورًا فورًا اس سے جدا ہوجائے کہ زنائے سے بچے،اور طلاق کی کچھ حاجت نہیں،بلکہ طلاق کا کوئی محل ہی نہیں،طلاق تو جب ہوکہ نکاح ہوا ہو،نکاح ہی سرے سے نہ ہوا،نہ اصلا عدت کی ضرورت کہ زنائے کے لئے عدت نہیں،بلا طلاق وبلا عدت جس مسلمان سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔درمختار میں ہے:
|
نکح کافر مسلمۃ فولدت منہ لایثبت النسب منہ ولا تجب العدۃ لانہ نکاح باطل [2]۔ |
کسی کافر نے کسی مسلمان عورت سے(اپنے خیال میں)نکاح کرلیا تو اس سے عورت نے بچہ جنا تو اس سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا۔اور نہ عورت پر عدت واجب ہوگی،اس لئے کہ وہ ایك باطل نکاح ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای فالوطء،فیہ زنا لایثبت بہ النسب [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یہ وطی زنا قرار پائے گی اس سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۴۴: از لاہور مسجد بیگم شاہی مرسلہ مولوی احمد الدین صاحب یکم ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں اکثر واعظین لوگوں کوکابل ہجرت کرنے پر مجبور کررہے ہیں اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب:
شریعت مجبور نہیں کرتی،ہندوستان میں بکثرت شعائر اسلام اب تك جاری ہیں تو ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك بدستور دارالاسلام ہے،
|
مابقیت علقۃ من علائق الاسلام فان الاسلام یعلو و لا یعلو |
جب تك اسلام کے ذرائع میں سے کوئی ذریعہ اسلام موجود ہو تو وہ داراسلام ہے۔کیونکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع