30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو شرعًا شریك ہونا جائز ہے یانہیں؟ اور جو مسلمان ایسے جلسوں میں شریك نہ ہو وہ خارج از اسلام ہے یا نہیں؟ اس سے ترك موالات کرنا شرعا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
ایسے جلسوں میں شریك ہونا قطعا حرام اور سخت مضر اسلام ہے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[1] |
اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔ |
اﷲ تعالٰی ان کے پاس بیٹھنے کو شیطانی کام بتاتاہے اور بھولے سے بیٹھ گیاہو تو یاد آنے پر فورا اٹھ آنے کا حکم فرماتاہے نہ کہ ان کا وعظ ولکچر سننا،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم [2]۔ |
ان سےدور بھاگو انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردین کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔ |
نہ کہ انھیں مسند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بٹھانا،انھیں صدر یا واعظ بنانے میں ان کی تعظیم و توقیر ہے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام [3]۔جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی بے شك اس نے دین اسلام ڈھا دینے پر مدد کی۔فتاوٰی ظہیریہ واشباہ والنظائر ومنح الغفار ودرمختار وغیرہا میں ہے: تبجیل الکافر کفر [4] کافر کی تعظیم کفر ہے۔تو جو مسلمان ایسے جلسوں میں شریك نہ ہو وہ اﷲ ورسول جل وعلا و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاحکم مانتے ہیں اپنے اسلام کو دستبردِ کفار ومرتدین وشیاطین سے بچاتے ہیں،اس بناء پر جو ان کو خارج از اسلام بتاتا ہے خود خارج از اسلام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:فقد باء بہا احد ھما [5]جو کسی کو کافر کہے اگر وہ کافر
[1] ا لقرآن الکریم ۶ /۶۸
[2] صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰
[3] شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ /۶۱
[4] درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱
[5] صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۰۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع