30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کب روا ہے،
|
من تواضع لغنی لاجل غناہ ذھب ثلث دینہ[1]۔ |
جس نے کسی مالدار کی اس کے سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے عزت وتواضع کی اس کا دو حصے دین ضائع ہوگیا۔(ت) |
اس سے بچتے ہیں تووہی بچتے ہیں جن کو اﷲ عزوجل نے نعمت زہد وقناعت ومجانبت امراء عطا فرمائی ہے " قَلِیۡلٌ مَّا ہُمْ "[2](اور وہ بچنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ت)
یوں بھی تحائف ہوولی ودوالی ناجائز تر ہیں کہ بلاوجہ کفار کی طرف میل ہیں خصوصا جب اس اتحاد ملعون کے سبب ہوں جس کی آگ نے آج مشتعل ہوکر ان لوگوں کا دین یکسر پھونك دیا۔
(۱۲)عجب کی وہ پارٹی جسے عمر بھر ایسی ہی باتوں اور ان سے زائد میں ابتلا رہاا ور ہنود کے ساتھ بہت اخبث واخنع ہیں اب علانیہ مبتلا ہے ایسے سوال ان بندگان خدا سے کرے جن کو ہمیشہ تلوث دنیا سے بکرمہٖ تعالٰی محفوظ رکھا ایسے افعال اگر بضرورت صحیحہ ہوں محذور نہیں اورخوشامد سلطنت کے لئے ہوں جب بھی شرکت کفر نہیں کہ لزوم کفر ہو،آگے حکم وفرق اسی طرح ہیں جو ابھی گزرے خوشامد سلطنت نہ اضطرار ہے نہ مفید دین ٹھہرا کر خالص طیب قلب سے استحسان واختیار بخلاف پر ستش جلوس گاندھی وغیرہ مشرکین کہ اس اتحاد ملعون کی بنا پر ہے جسے بہبود دین بنا کر غایت درجہ استحسان میں بتایا جاتاہے تو وہ ضرور شرکت کفر ہے۔اور اس پر لزوم کفر اور تجدید ایمان ونکاح کاحکم،ہاں جسے نہ یہ اتحاد منظور تھا نہ تعظیم شرك مقصود محض بطور تماشاجلوس گاندھی میں شریك ہوا اس پر بھی لزوم کفر نہیں،البتہ اتنا کہا گیا اوریہ ضرور حق ہے کہ حرام فعل کا تماشا دیکھنابھی حرام ہے۔
(۱۳)معاملات مجردہ مثل بیع وشرائے اشیاء مباحہ شرع نے کسی خاص قوم سے واجب کئے نہ حرام،مباح کا فعل وترك یکساں ہے جب تك خارج سے کوئی وجہ داعی یا مانع نہ پید اہو مگر کسی امر مباح کو شرعا فرض ٹھہرا لینا جائز جیسا پارٹی والے کررہے ہیں یہ قطعا حرام اور شریعت مطہرہ پر افتراء واتہام ہے
(۱۴)ان مشرکین سے دین میں مدد لینی ہی حرام ہے۔کوئی بات خلاف شرع لازم نہ آنا کیامعنی،اس کی تفصیل المحجۃ المؤتمنہ میں ہے:
(۱۵ و ۱۶)کالج ہو یا مدرسہ اگر چہ کیسا ہی دینی کہلاتاہو اعتبار تعلیم کاہے اگر اس میں دین اسلام یا مذہب اہلسنت یاشریعت مطہرہ کے خلاف تعلیم دی جاتی تلقین کی جاتی ہے تواس کی امداد بھی حرام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع