30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قائم ہیں اور بہت سے رسائل موقت وشیوع وجاری ہیں ہزاروں روپیہ ماہوار وہ لوگ ان کاموں میں صرف کررہے ہیں آیا اس قت بحالت موجودہ اہلسنت کو وعظ کی مجالس قائم کرکے عوام کے خیالات کو صاف کرنے اور ان کو شکوك وشبہات سے بچانےکی غرض سے ان کا جواب دینا اوررد کرنا اوراگر فریق ثانی مباحثہ پر آمادہ ہو اور مطالبہ کرے تو اس کا انتظام کرنا چاہئے یا نہیں اور اگر چاہئے تو یہ کام فرض ہے یا واجب ؟ مستحب یا ناجائز؟ اور اگر زمانہ حال کا لحاظ کرکے اس طرف سے چشم پوشی کی جائے تویہ فعل جائز ہے یاناجائز،اور بعض ایسے مخصوص مقامات پر جہاں ان لوگوں کا زور ہے ان کی مدافعت کے لئے دو ایك ٹوٹی پھوٹی انجمنیں بھی قائم ہیں اور وہ کبھی کبھی ان کا رد کرتی ہیں اب ان انجمنوں کا قائم رکھنا اور مدافت کرتے رہنا چاہئے یا ان کاموں کو ترك کردینا چاہئے اور اس وقت ان امور مں روپیہ صر ف کرنا جائزہے یا نہیں ؟ بعض لیڈران قوم جن میں کچھ مولوی بھی ہیں جو آج کل مسئلہ خلافت میں بڑے بڑے کام کررہے ہیں زمانہ موجودہ میں کسی رد وجواب اور بحث مباحثہ کو اور اسی قسم کے دوسرے مذہبی کاموں میں اشتغال کو مسئلہ خلافت کے اہتمام میں مخل خیال فرماکر ناجائز فرماتے ہیں،ان کی یہ رائے صحیح اور ان کا یہ حکم قابل پابند ی ہے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
جب کوئی گمراہ بددین رافضی ہو یا مرزائی،وہابی ہو یا دیوبندی وغیرہم خذلہم اﷲ تعالٰی اجمعین(اﷲ تعالٰی ان کو بے یارو مددگار چھوڑے۔ت)مسلمانوں کو بہکائے فتنہ وفساد پیدا کرے تو اس کا دفع اور قلوب مسلمین سے شہبات شیاطین کا رفع فرض اعظم ہے جو اس سے روکتا ہے " یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَیَبْغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ "[1]میں داخل ہے کہ اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ اور خلافت کمیٹی کا حیلہ اﷲ کے فرض کو باطل نہیں کرتا نہ شیطان کے مکر کو دفع کرنے سے روکنا شیطان کے سوا کسی کا کام ہوسکتاہے۔جوایسا کہتے ہیں اﷲ عزوجل اور شریعت مطہرہ پر افتراء کرتے ہیں مستحق عذاب نار وغضب جبارہوتے ہیں۔ادھر ہندو سے وداد واتحاد منایا،ادھر روافض ومرزائیہ وغیرہم ملاعنہ کا سد فتنہ ناجائز ٹھہرایا،غرض یہ ہےکہ ہر طرف سے ہر طرح سے اسلام کو بے چھری حلال کردیں اور خود مسلمان بلکہ لیڈر بنے رہیں،
" وَاللہُ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۲۵۸﴾ۚ "[2](اور اﷲ تعالٰی ظالم لوگوں کوراہ نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع