30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جلد اول فـــــ میں طبع ہوا اور اس کا قول ضروری کے موافق ہونا میرے فتوئے سے کہ بجواب سول علی گڑھ لکھا ظاہر اس کی نقل حاضر ہوگی اوریہ حکم صرف نکاح میں ہے باقی تمام احکام ارتداد جاری ہوں گے،نہ وہ شوہر کا ترکہ پائے گی نہ شوہر اس کا اگر اپنے مرض الموت میں مرتدہ نہ ہوئی ہو،نیز جب تك وہ اسلام لائے شوہر کواسے ہاتھ لگانا حرام ہوگا،عالمگیری منشاء مسئلہ مذکورہ سے خالی نہیں باب نکاح الکفار میں دیکھئے:
|
لواجرت کلمۃ الکفر علی لسانہا مغایظۃ لزوجہا او اخراجا لنفسہا عن حبالتہ او لاستیجاب المہر علیہ بنکاح مستانف تحرم علی زوجھا فتجبر علی الاسلام ولکل قاض ان یجدد النکاح بادنی شیئ ولو بدینار سخطت او رضیت ولیس لہا ان تتزوج الا بزوجہا قال الہند وانی اخذ بہذا قال ابواللیث وبہ ناخذ کذا فی التمرتاشی [1]۔ |
اگر کسی منکوحہ عورت نے اپنی زبان پر کلمہ کفر جاری کیا اپنے شوہر کو طیش دلاتے ہوئے یا اپنی ذات کو اس سے باہر کرنے کے لئے یا اس لئے کہ اس پر جدید نکاح سے مہر واجب ہو تو وہ اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی پھر اسے اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا،اور ہر قاضی کے جائز ہے کہ وہ بالکل کسی معمولی چیز سے دوبارہ اس کا نکاح پڑھادے اگر چہ ایك اشرفی ہی کیوں نہ ہو، چاہے عورت ناراض ہو یا راضی،اورعورت کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرے، فقیہ ہندوانی نے فرمایا کہ مں اسی کو اختیار کرتاہوں،فقیہ ابو اللیث نے فرمایا کہ ہم اسی پر عمل کرتے ہیں،یونہی تمرتاشی میں مذکور ہے۔(ت) |
اسی کے بیان میں درمختارمیں ہے:
|
صرحوا بتعزیرھا خمسۃ وسبعین وتجبر علی الاسلام وعلی تجدید النکاح بمہر یسیر کدینار وعلیہ الفتوی والوالجیۃ [2]۔ |
فقہاء کرام نے تصریح فرمائی کہ عورت کو پچھتر کوڑے سزادی جائے اوراسلام لانے پر مجبورکیاجائے اور بالکل معمولی مہر سے جدید نکاح کیا جائے جیسے کہ ایك اشرفی وغیرہ،اور اسی پر فتوٰی ہے ولوالجیہ(ت) |
یہ احکام اسی طرح مذہب کے خلاف ہیں جب مرتدہ ہوتے ہیں نکاح فورا فسخ ہوگیا کہ ارتداداحد ہما فسخ فی الحال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع