30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اپنے بعض ثقہ معتمد برادران دینی کا واقعہ بیان فرمایا کہ ان کے یہاں بیماری ہوئی مریض نے ایك یہودی طبیب کی طرف رجوع پر اصرار کیا،انھوں نے اسے بلایا،وہ علاج کرتارہا ایك دن اسے خواب میں دیکھا کہ ان سے کہتاہے کہ موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کادین قدیم ہے اسی کو اختیار کرنا چاہئے،اور یوہیں میں کیا کیا بکتا رہا،یہ ترساں ولرزاں جاگے اور عہد کرلیا کہ اب وہ میرے گھر نہ آنے پائے راستے میں بھی وہ جہاں ملتا یہ اور راہ ہوجاتے کہ مبادا اس کا وبال انھیں پہنچے، امام فرماتے ہیں:
|
فہذاقد رحم بسبب انہ کان معتنی بہ فیخاف من استطبہم ولم یکن معتنی بہ ان یہلك معہم ولو لم یکن فیہ الا الخوف من ھذا الامر الخطر لکان متعینا ترکہ فکیف مع وجود ماتقدم [1]۔ |
ان صاحب پر تو یوں رحمت ہوئی کہ زیر عنایت تھے جو ایسا نہ ہو اور ان سے علاج کرائے اس پر خوف ہے کہ ان کے ساتھ ہلاك ہوجائے ان کے علاج میں اس شدید خطرناك خوف کے سوا اور کچھ نہ ہوتا تو اس قدر سے اس کا ترك لازم ہوتا نہ کہ اور شناعتوں کے ساتھ جن کا ذکر گزرا۔ |
ان امام ناصح رحمہ اﷲ تعالٰی کے ان نفیس بیانوں کے بعد زیادت کی حاجت نہیں اور بالخصوص علمائے وعظمائے دین کے لئے زیادہ خطر کا مؤید امام مارزی رحمہ اﷲ تعالٰی کا واقعہ ہے علیل ہوئے ایك یہودی معالج تھا اچھے ہوجاتے پھر مرض عود کرتا کئی بار یوہیں ہوا،آخر اسے تنہائی میں بلاکر دریافت فرمایا اس نے کہا اگر آپ سچ پوچھتے ہیں تو ہمارے نزدیك اس سے زیادہ کوئی کار ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کھودوں،امام نے اسے دفع فرمایا،مولی تعالٰی نے شفا بخشی،پھر امام نے طب کی طرف متوجہ فرمائی اور اس میں تصانیف کیں اور طلبہ کو حاذق اطباء کردیا اور مسلمانوں کو ممانعت فرمادی کہ کافر طبیب سے کبھی علاج نہ کرائیں،یہود کے مثل مشرکین ہیں کہ قرآن عظیم نے دونوں کو ایك ساتھ مسلمانوں کا سب سے سخت تر دشمن بتایا اور " لَا یَاۡ لُوۡنَکُمْ خَبٰلًاؕ "تو عام کفار کے لئے فرمایا۔
عورت کا مرتد ہوکر نکاح سے نہ نکلنا تمام کتب ظاہر الروایۃ وجملہ متون وعام شروح وفتاوٰی قدیمہ سب کے خلا ف ہے اور سب کے موافق،خلاف ہے قول صوری کے اور موافق ہے قول ضروری کے،قول ضروری اور صوری کا فرق میرے رسالہ اجل الاعلام بان الفتوٰی مطلقًا علی قول الامام(بالکل ظاہر اور واضح اعلان ہےکہ فتوٰی دینا علی الاطلاق امام کے قول پر ہے۔ت)میں ملے گا کہ میرے فتاویٰ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع