30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
پھر یہ اندیشہ کہ کہیں یہودی میرے ذمے نہ رکھ دے رئیس کل تك نہ بچے گا،وہی ہوا کہ صبح تك اس کا انتقال ہوگیا،پھر فرمایا کہ بعض لوگ کافر طبیب کے ساتھ مسلمان طبیب کو بھی شریك کرتے ہیں کہ جو نسخہ وہ بتائے مسلمان کو دکھالیں،یوں اس کے مکر سے امن سمجھتے ہیں اور اس میں کچھ حرج نہیں جانتے۔ |
فرمایا:
|
وھذا لیس بشیئ ایضا من وجوہ الاول ان المسلم قد یفعل عن بعض ماوصفہ الثانی مافیہ اقتداء الغیر بہ الثالث مافیہ الاعانۃ لہم علی کفرھم بما یعطیہ لہم، الرابع ما فیہ ذلۃ المسلم لہم الخامس مافیہ تعظیم شانہم سیما ان کان المریض رئیسا وقد امر الشارع علیہ الصلٰوۃ والسلام بتصغیر شانہم وھذا عکسہ [1]۔ |
یہ بوجوہ کچھ نہیں،ایك تو ممکن کہ جودوا کافر نے بتائی اس وقت مسلمان طبیب کے خیال میں اس کا ضرر نہ آئے پھر اس کو دیکھا دیکھی اور مسلمان بھی کافر سے علاج کرائیں گے۔فیس وغیرہ جو اسے دی جائے وہ اس کے کفر پر مدد ہوگی،مسلمان کو اس کے لئے تواضع کرنی پڑے گی،علاج کی ناسوری سے کافر کی شان بڑھے گی خصوصا اگر مریض رئیس تھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی تقیر کا حکم دیا اور یہ اس کا عکس ہے۔ |
پھر فرمایا:
|
ثم مع ذٰلك مایحصل من الانس والودلہم وان قل الامن عصم اﷲ وقلیل ماھم ولیس ذٰلك من اخلاق اھل الدین [2]۔ |
پھر ان سب وجو ہ کے ساتھ یہ ہے کہ اس سے ان کے ساتھ انس اور کچھ محبت پیدا ہوجاتی ہے اگر چہ تھوڑی ہی سہی سوا اس کے جسے اﷲ محفوظ رکھے اور وہ بہت کم ہیں اور کافر سے انس اہل دین کی شان نہیں۔ |
پھر فرمایا:
|
ومع ذلك یخشی علی دین بعض من یستطبہم من المسلمین [3]۔ |
ان سب قباحتوں کے ساتھ سخت آفت یہ ہے کہ کبھی ان سے علاج کروانے والے کے ایمان پر اندیشہ ہوتاہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع