30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کل العداوۃ قد ترجی ازالتہا الاعداوۃ من عاداك فی الدین [1] |
ہرعداوت کے ازالہ کے لئے امید کی جاسکتی ہے سوائے اس شخص کے جو تیرے ساتھ دین میں عداوت رکھے۔ |
پھر فرمایا:
|
وقد یستعملون النصح فی بعض الناس ممن لاخطر لہم فی الدین ولا علم وذٰلك ایضا من الغش لانہم لولم ینصحوا لما حصلت لہم الشہرۃ بالمعرفۃ بالطب ولتعطل علیہم معاشہم وقد ینفطن لغشہم ومن غشہم نصحہم لبعض انباء الدنیا لیشتھروا بذٰلك وتحصل لہم الحظوۃ عندھم وعند کثیر ممن شابہہم ویتسلطون بسبب ذٰلك علی قتل العلماء والصالحین وھذا النوع موجود ظاہر،وقد ینصحون العلماء و الصالحین وذٰلك منہم غش ایضا لانہم یفعلون ذلك لکی تحصل لھم الشھرۃ وتظھر ضعتہم فیکون سببا الی اتلاف من یریدون اتلافہ منہم وھذا منہم مکر عظیم [2]۔ |
یعنی وہ کبھی عوام کے علاج میں خیرخواہی کرتے ہیں اوریہ بھی ان کا مکر ہے کہ ایسا نہ کریں تو شہرت کیسے ہو روٹیوں میں فرق آئے اور کبھی ان کے فریب پر لوگ چرچ جائیں،یوہیں یہ فریب ہےکہ بعض رئیسوں کا علاج اچھا کرتے ہیں کہ شہرت اور اس کے نزدیك اور اس جیسوں کی نگاہ میں وقعت ہو پھر علماء وصلحا کے قتل کا موقع ملے اور ایسے اب موجودو ظاہر ہیں اور کھبی علماء وصلحا کے علاج میں بھی خیرخواہی کرتے ہیں اور یہ بھی فریب ہےکہ مقصود ساکھ بندھن ہے پھر جس عالم یا دیندار کا قتل مقصود ہے اس کی راہ ملنا اور یہ ان کا بڑا مکر ہے پھر اپنے زمانے کا ایك واقعہ ثقہ معتمد کی زبانی بیان فرمایا کہ مصر میں ایك رئیس کے یہاں ایك یہودی طبیب تھا رئیس نے کسی بات پر ناراض ہوکر اسے نکال دیا وہ خوشامدیں کرتا رہا یہاں تك کہ رئیس راضی ہوگیا کافر وقت کا منتظر رہا پھر رئیس کو کوئی سخت مرض ہوا،میں طبیب مغربی سے طب پڑھ رہا تھا لوگ انھیں بلانے آئے انھوں نے عذر کیا لوگوں نے اصرار کیا،گئے،اور مجھے فرماگئے میرے آنے تك بیٹھے رہنا،تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ کانپتے تھر تھراتے واپس آئے، میں نے کہا خیر ہے۔فرمایا میں نے پوچھا کہ یہودی نےکیا نسخہ دیا،معلوم ہوا کہ وہ رئیس کا کام تمام کرچکا،میں اندر نہ گیا کہ ایك تو اس کے بچنے کی امید نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع